صدرٹرمپ مزید فوجی تنازع نہیں چاہتے، ایران کی جوابی کارروائی پر وائٹ ہاؤس کا ردعمل
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک ) وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی توقع کر رہی تھی جس کی بنیاد گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ایرانی جوہری تنصیبات پر مبینہ امریکی حملوں کے بعد رکھی گئی۔
سی این این سے بات کرتے ہوئے اہلکار کا کہنا تھا کہ جوابی کارروائی کسی حیرت کا باعث نہیں بنی، ہمیں معلوم تھا کہ وہ جوابی کارروائی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد بھی ایران کا ردعمل اسی نوعیت کا تھا۔
یاد رہے کہ جنوری 2020 میں امریکی فضائی حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی جاں بحق ہو گئے تھ جس کے بعد ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے تھے۔
اہلکار نے مزید کہا کہ ابتدائی جائزے کے مطابق پیر کو ایران کی جانب سے فائر کیے گئے میزائل اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے، قطر کی وزارت دفاع کے مطابق اس کے فضائی دفاعی نظام نے ملک میں موجود امریکی ایئر بیس پر حملہ ناکام بنا دیا۔
اہلکار نے یہ بھی واضح کیا کہ صدر کی پالیسی یہ ہے کہ خطے میں مزید فوجی مداخلت سے گریز کیا جائے تاہم امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر حملے سے پہلے قطر کو آگاہ کردیا تھا،ذرائع کا دعویٰ