عسکری اقدامات نے ایران امریکا مذاکراتی عمل سبوتاژ کیا،قومی سلامتی کمیٹی کی اسرائیلی جارحیت کی مذمت

Jun 23, 2025 | 18:47:PM
عسکری اقدامات نے ایران امریکا مذاکراتی عمل سبوتاژ کیا،قومی سلامتی کمیٹی کی اسرائیلی جارحیت کی مذمت
کیپشن: تصویر، فائل
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اویس کیانی )وزیراعظم کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی  کے اجلاس میں اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ عسکری اقدامات نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کیا۔

کمیٹی نے اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کی شدید مذمت اور  افسوس کا اظہار کیا،  یہ فوجی حملے اُس وقت کیے گئے جب ایران اور امریکہ کے درمیان ایک تعمیری مذاکراتی عمل جاری تھا۔

 اعلامیہ کے مطابق ان غیر ذمہ دارانہ کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی میں اضافہ کیا ہے، جو ایک بڑے تنازعے کو ہوا دے سکتی ہیں اور بات چیت و سفارتکاری کے امکانات کو کمزور کر رہی ہیں۔

 کمیٹی نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ایران کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کیا،کمیٹی نے ایران کے عوام اور حکومت سے معصوم جانوں کے ضیاع پر اظہارِ تعزیت کیا ، زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی گئی۔

پاکستان کے واضح مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے، کمیٹی نے 22 جون کو فردو، نطنز اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ممکنہ مزید بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا،جو کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی قراردادوں، متعلقہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں۔

کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان متعلقہ فریقین سے قریبی رابطے میں ہے اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی کوششوں اور اقدامات کو جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

کمیٹی نے تمام متعلقہ فریقین سے مطالبہ کیا کہ تنازعے کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے،  کمیٹی نے بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے قوانین کی پاسداری پر بھی زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں :سونے کی قیمت میں کمی