تہذیب کی تشکیل نو کیسے ہو گی ؟ 

اسلم اعوان

Jan 23, 2026 | 14:47:PM
 تہذیب کی تشکیل نو کیسے ہو گی ؟ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

           پچھلے 47 سالوں پہ محیط دو بڑی جنگووں نے جہاں ہماری مملکت کے اجتماعی ڈھانچہ کو شکست و ریخت سے دوچار کیا وہاں انہی جنگی عوامل نے خطہ کے تہذیب و تمدن اور سماجی زندگی کی جُزیات تک کو تہہ و بالا کر ڈالا ، بالخصوص طویل جنگووں سے جڑی پُرتشد تحریکوں نے نظام ہائے سیاست ، اقتصادیات اور بنیادی ڈھانچہ کو منہدم کرنے کے علاوہ ہمارے عقائد و الہیات  ، معاشرتی درجہ بندی  اور  انسانی رویّوں کو پراگندہ کرکے مجموعی سماجی شعور کو التباسات کی دھند میں اُلجھا  دیا ۔ مذہبی تشدد کے باعث موسیقی ، رقص ، میلوں ٹھیلوں اور روایتی تہواروں کی حوصلہ شکنی ہوئی ،  عدم تحفظ کے احساس نے خوف و بے یقینی کو بڑھایا ،خوف نے ثقافت کی رنگینی ختم کرکے معاشرتی تنوّع اور ذہنی لچک کو کند بنا دیا ، سماجی شعور میں خلل پیدا ہونے سے فکری آزادی ، تعمیری رجحان  اور تخلیقی اظہار کی صلاحیتیں ماند پڑتی گئیں ۔ مذہب کو جب انسانی زندگی کو مقصدیت عطا کرنے والے فلسفہ حیات کی بجائے سیاسی طاقت کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا تو معاشرے کو ریگولیٹ کرنے والی حکومتی عملداری کمزور ، سماجی حفظ و مراتب مخدوش اور تزکیہ نفس کا اخلاقی نظام تباہ ہوتا گیا کیونکہ یہی وہ باہم جڑے ہوئے عناصر ہیں جو صحت مند معاشرے کی تشکیل کے ذریعے ہمیں اپنے ماحول پہ تصرف اور خود پر کنٹرول عطا کرتے تھے ۔ 
          علی ہذالقیاس ، آج جب ریاست بڑی حد تک تشدد پہ قابو پا کر استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے تو ہمارے ارباب بست و کشاد کو معاشرے کی تشکیل نو کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت پڑے گی ، لاریب  ! تہذیب ابتری اور بدنظمی کے خاتمہ سے شروع ہوتی ہے ، جب خوف پہ قابو پا لیا جائے تو تجسس اور تعمیری ایچ آزاد ہو جاتے ہیں اور انسان قدرتی طور پہ زندگی کی تزائین و آرائش کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، گویا تہذیب اجتماعی شعور، اقدار، روایات، اخلاقی ضابطے، علمی رویے اور مجموعی طرزِ زندگی پہ محمول ایسا ساختی وجود ہے جو ایک قوم کو دوسری اقوام سے ممتاز کرتا ہے تاہم تہذیب محض بلند عمارتوں ، جدید ٹیکنالوجی یا معاشی خوشحالی کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کے باطنی تزکیہ ، رویّوں میں توازن ، انصاف پسندی ، ذہنی اعتدال ، شخصی اخلاق اور سماجی تال میل میں متشکل ہوتی ہے ۔ تاریخِ انسانی اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جب بھی کسی سماج کو بہترین تہذیبی قدریں اور پاکیزہ ثقافتی حالات میسر آئے ، وہ معاشرہ بامِ عروج تک پہنچا اور جب تہذیب کی اخلاقی بنیادیں کمزور ہوئیں تو کئی پُرشکوہ قومیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں ۔  بلاشبہ ہر تہذیب و ثقافت کے فروغ کی جڑیں اخلاقی اقدار اور فکری توازن پہ میں پیوست ہوتی ہیں یعنی تہذیب کا اصل سرچشمہ اخلاقی اصول ہیں  ۔ جن میں دیانت ، عدل ، احترامِ انسانیت ، رواداری اور ذمہ داری کا  احساس جیسی قدریں نمایاں ہیں یعنی جب افراد ذاتی مفاد سے بلندتر ہو کر اجتماعی بھلائی کو ترجیح دینے لگیں تو یہی ایثار اجتماعی زندگی میں عقل و جذبات کو اعتدال مہیا کرکے تہذیب کی نشو و نما کا وسیلہ بنتا ہے ۔ 

      سوشل ایجوکیشن تہذیب کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے یعنی صرف رسمی یا ڈگریوں پر مشتمل تعلیم نہیں بلکہ اپنے ماحول سے ملنے والی وہ فطری تربیت جو ہمیں ماں کی گود ، خاندانی روایات ، محلے کی ثقافت اور پوری سوسائٹی کے مجموعی ماحول میں ملتی ہے ۔ خاندان تہذیب کی پہلی درسگاہ ہے ، جہاں خاندانی نظام مضبوط ہو ،  وہاں کے انسانی معاشرے تہذیبی انحراف سے محفوظ رہتے ہیں ، ایسے ماحول میں ہمدردانہ تنقیدی شعور ، اخلاقی تربیت اور سماجی ذمہ داری کا احساس فروغ  پاتا ہے ۔ اگرچہ مادی خوشحالی اور معاشی استحکام بھی تہذیبی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں  لیکن دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز بلآخر تہذیب کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے ، آسائشیں بذاتِ خود کوئی برائی نہیں مگر جب عیش و عشرت زندگی کا مقصد بن جائے تو وہ آگے بڑھنے کیلئے درکار جدوجہد اور انسانی فعالیت کو کند کر دیتی ہے لیکن جہاں اجتماعی وسائل منصفانہ طور پر تقسیم ہو رہے ہوں وہاں ہر طبقہ باعزت زندگی جی کر ثقافت میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے بلاشبہ ضبط نفس کے بغیر تہذیب زندہ نہیں رہ سکتی ۔
                  تہذیب کے زوال اور گمراہی کے عوامل میں اخلاقی انحطاط بنیادی محرک بنتا ہے جب اخلاقیات کو فرسودہ یا غیر ضروری سمجھا جانے لگے تو معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے جس کے نتیجہ میں جھوٹ ، خودغرضی ، فریب ، عدم برداشت اور طاقت کا غلط استعمال تہذیب کو اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار بنا دیتا ہے ۔ یونان ، روم  اور عباسی خلافت کے بعض ادوار معاشرتی زوال کی کلاسیکی مثالیں ہیں ، جہاں دولت اور تعیش نے اخلاقی اقدار کو نگل لیا ، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ان ادوار کے  اعلی طبقات  نے محض مادی کامیابی کو زندگی کا حاصل سمجھا اور روحانی و اخلاقی مقاصد پسِ پشت ڈال دیئے ، جس کے نتیجہ میں تہذیب بے روح ہوتی گئی ۔ 

           آج کے جدید معاشروں میں صارفیت (Consumerism)  کے رجحان نے تہذیب کو نقصان پہنچایا ، سرمایاداروں نے میڈیا کے ذریعے انسانی خواہشات کو ابھارا تو صبر و قناعت جیسی فضیلتیں کمزور پڑتی گئیں ، نمود و نمائش نے سماجی اقدار کی جگہ لیکر تہذیب کو گمراہی کی طرف دھکیل دیا ، ہمارے معاشروں میں اعلی طبقات امیر سے امیر تر ہوتے گئے انہوں نے اپنی سہولت، ذوق اور مفاد کو ہی تہذیب کا معیار بنا لیا ، یہی پیش دستی ان میں تکبر ، سماجی بے حسی اور اخلاقی بے راہروی کا رجحان بڑھاتی گئی، اِسی کے نتیجہ میں تیزی سے بڑھتی غربت بتدریج متوسط طبقہ کو نگلنے لگی  ۔ مڈل کلاس کسی بھی معاشرے میں تہذیب کی اصل محافظ اور اجتماعی زندگی میں مقصدیت کا پرچار کرنے والی سماجی اکائی ہوتی ہے ۔ یہ طبقہ محنت ، اعتدال ، تعلیم ، اخلاق اور سماجی ذمہ داریوں کا امین ہوتا ہے ، جب  ہمارے معاشرے میں مڈل کلاس سکڑنے لگی تو تہذیب دو انتہاوں میں بٹتی گئی ، اب ہماری ایک طرف وسائل پہ غیر محدود تصرف رکھنے والی بے لگام اشرافیہ اور دوسری طرف عسرت و محرومیوں کے ہاتھ پِس کر خط غربت سے نیچے گرتے کروڑوں انسان ہیں ۔ غربت محض معاشی مسئلہ نہیں بلکہ تہذیبی بحران بھی ہے ، غربت انسان کو اپنی بقاء کے لئے درکار بنیادی ضروریات کے حصول کے لئے جرائم پہ اُکسا کر فنا و بقاء کے خط امتیاز پہ لا کھڑا کرتی ہے ، ہمارے معاشرے میں بھی محرومیوں نے احساسِ کمتری ، غصے اور جرائم کو جنم دیکر تہذیب کو کمزور بنایا ، بلاشبہ غربت اخلاقی تربیت ،  تہذیبی شعور ، جو انسانی رویوں میں پاکیزگی و نفاست پیدا کرتا ہے ، کو ناکارہ بنا دیتی ہے ، اسی طرح جب  اپر کلاس خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگی تو قانون کا سارا جبر کمزور طبقات کی کمر توڑ کر نچلے  طبقہ کو نظم اجتماعی سے بدظن کرتا گیا ،  مجبور انسان اچھے بُرے کی تمیز کو پس پشت ڈالکر اپنی بقاء کی خاطر اجتماعی نظم و ضبط کو دگرگوں کرنے پہ تل  گئے تاہم ہمارے فطری نظم و ضبط میں جو انحراف روزافزوں ہے اسے قانونی تشدد کی مدد سے کم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ عام لوگ اپنے مفروضوں کی تصدیق اور امیدوں کی تسکین تلاش کرنے کے لئے اشرافیہ کے سماجی مفادات کو رد کر دیں گے  اور یہی صورتحال سماجی ہم آہنگی ، تمدنی توازن اور تہذیبی تنوع کونقصان پہنچا کر طبقاتی تفاوت بڑھا رہی ہے ، پچھلے پچاس سالوں کے دوران  طبقاتی بداعتمادی تہذیب کو اندر سے کھوکھلا کرکے ہمارے معاشرے کو انتشار اور بدنظمی کی طرف دھکیلتی رہی ، طبقاتی خلیج بڑھنے سے رفتہ رفتہ سماج میں باہمی اشتراک کا احساس معدوم ہوتا گیا ، آج تہذیبی اعتبار سے بحثیت قوم ہم دو راہے پہ آن کھڑے ہیں ۔

           چنانچہ تہذیب کی بحالی اور استحکام کے لیے تعلیم کو اخلاقی اور فکری بنیادوں پر استوار کرنے کے علاوہ وسائل کی ایسی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا پڑے گا، جس سے مڈل کلاس کے وجود کو وسعت دیکر خاندانی نظام اور سماجی اقدار کو مضبوط بنایا جا سکے ، ریاستی کنٹرول میں میڈیا اور سوشل میڈیا کو تہذیبی شعور اجاگر کرنے کا ذریعہ بنایا جائے ، نہ کہ مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ یا سوشل میڈیا معاشرے کو تقسیم کرکے محض طاقت حاصل کرنے کا ٹول بنا رہے ۔

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر