استعفی دو اور جاؤ; نیتن یاہو کے متعلق سائمن ٹیسڈیل کی تحریر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) گزشتہ ہفتے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ روکنے کے ابتدائی معاہدے کے سب سے بڑا نقصان جس شخص کو ہوا اس کا نام بنیامین نیتن یاہو ہے۔ تاریخ اُس شخص کو ایسے کردار کے طور پر یاد رکھے گی اور نفرت کا نشانہ بنائے گی کہ جس نے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ و جدل کی راہ پر ڈال دیا۔
چاہے مسئلہ غزہ میں حماس کا ہو، مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی بستیوں کا، اسرائیل کے اندر مبینہ عرب مخالف عناصر کا، امن پسند کارکنوں کے امدادی بحری قافلوں کا، لبنان میں حزب اللہ کا، شام، عراق اور یمن کی مسلح تنظیموں کا یا پھر تہران کی سخت گیر اسلامی حکومت کا، نیتن یاہو کا جواب ہمیشہ ایک ہی رہا: بے لگام اور اکثر غیر قانونی طاقت کا استعمال، جس نے ہر مرتبہ حالات کو مزید خراب کیا۔
ایران کے خلاف بلا جواز اور غیر قانونی جنگ نیتن یاہو کے اسی نظریے کا آخری اور مکمل اظہار تھی: طاقت کے بے تناسب استعمال کا نظریہ۔ توقعات کے عین مطابق یہ جنگ بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
ڈونلڈ ٹرمپ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ورسائی میں دستخط کیے گئے جنگ بندی کے معاہدے کو شکست یا پسپائی نہ سمجھا جائے، حالانکہ بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ امریکہ کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کی دستاویز ہے۔ لیکن اگر ٹرمپ اس سیاسی شرمندگی سے نکل بھی جائیں، تو نیتن یاہو کے لیے اس کے نتائج ممکنہ طور پر سیاسی زندگی کے خاتمے کے مترادف ہوں گے۔ کئی حوالوں سے وہ پہلے ہی قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی مسلح افواج ہر صورتحال کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، باقر قالیباف
ان کی سیاسی زندگی کا خلاصہ کسی فردِ جرم سے کم نہیں۔ انہوں نے برسوں تک فلسطینیوں کے لیے دو ریاستی حل کی مخالفت کی۔ وہ 7 اکتوبر 2023 کے ہولناک حماس حملے کو روکنے میں ناکام رہے اور اس کے بعد غزہ میں ایسی انتقامی کارروائیاں کیں جنہیں تمام بین الاقوامی قوانین اور ماہرین کھلم کھلا نسل کشی قرار دیتے ہیں۔ اقتدار سے چمٹے رہنے کے لیے انہوں نے انتہائی دائیں بازو کے سیاست دانوں کو حکومت میں کلیدی کردار دیے، جس سے اسرائیل کو اندرون اور بیرونِ ملک شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے 2015 کے عالمی حمایت یافتہ ایران جوہری معاہدے کو بھی کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ بعد ازاں ٹرمپ نے اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کی، جس کے نتیجے میں حالات اس نہج پر پہنچے کہ اس سال کی تباہ کن اور خود کو نقصان پہنچانے والی جنگ وجود میں آئی۔
تاہم نیتن یاہو کے سیاسی زوال کی سب سے بڑی وجہ یہ سب نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان قائم خصوصی تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا۔ وہ اور ٹرمپ اب تقریباً ایک دوسرے سے بات تک نہیں کرتے۔ درست یا غلط، وائٹ ہاؤس اور امریکی عوام کا ایک بڑا طبقہ سمجھتا ہے کہ نیتن یاہو نے آسان فتح اور ایرانی حکومت کے خاتمے کے خوش فہم اندازوں کی بنیاد پر امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلا جسے جیتنا ممکن نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ اب تک شروع نہیں ہوسکا
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد کئی دہائیوں تک امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات بھی رہے، لیکن سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے مفادات پہلے سے زیادہ قریب آ گئے۔ امریکی فوجی امداد میں بے پناہ اضافہ ہوا، اور واشنگٹن میں اسرائیل کے حامی حلقوں کا اثر و رسوخ بھی بڑھتا گیا۔ امریکہ اسرائیل کا سب سے اہم اتحادی بن گیا اور اسرائیل امریکہ کا مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑا شراکت دار۔
یہ اتفاقِ رائے 2015 میں کمزور ہونا شروع ہوا، جب نیتن یاہو اور امریکہ میں موجود اسرائیل نواز تنظیموں نے باراک اوباما کی ایران کے ساتھ مفاہمت کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور مہم چلائی۔ بعد ازاں ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت نے سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا۔
نیتن یاہو کی بعد کی پالیسیوں — جن میں سخت گیر قوم پرستی، یہودی بستیوں کی توسیع، فلسطینی علاقوں پر قبضے کی حمایت، اور غزہ، لبنان اور ایران میں جنگیں شامل ہیں — نے اس خلیج کو اور وسیع کر دیا۔ حالیہ سرویز کے مطابق پہلی مرتبہ امریکی عوام کی اکثریت اسرائیلیوں کی بجائے فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں ۔
اگر یہ اطلاعات درست ہیں کہ ٹرمپ نے نجی گفتگو میں نیتن یاہو کو “پاگل” قرار دیا، تو یہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ نیتن یاہو نہ صرف امریکہ کو ایک بڑی جنگ میں شامل کرنے میں کامیاب ہوا بلکہ اب امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک غیر معمولی اسٹریٹجک اختلاف کا مرکز بھی بن گیا۔
ٹرمپ کے ایران معاہدے نے اسرائیل میں شدید مایوسی پیدا کی۔ نیتن یاہو نے وعدہ کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں اور اس کے علاقائی اتحادیوں کا خاتمہ کر دیا جائے گا اور ایرانی حکومت تبدیل ہو جائے گی، لیکن ان میں سے کوئی ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: معاہدہ نہ ہونے پر آبنائے ہرمز پر ٹول عائد کر سکتے ہیں : صدر ٹرمپ
اس کے برعکس ایران کی حکومت پہلے سے زیادہ مضبوط اور پراعتماد دکھائی دیتی ہے۔ ٹرمپ نے بھی نیتن یاہو کی کئی بنیادی شرائط کو نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، اسے بیلسٹک میزائل رکھنے کا حق ہے اور اس پر عائد پابندیاں نرم کی جانی چاہئیں۔
نیتن یاہو اس وقت ایک مشکل صورتحال میں پھنس چکا۔ اگر وہ ٹرمپ کے خلاف جاتا ہے تو جنگ دوبارہ بھڑک سکتی ہے اور امن عمل تباہ ہو سکتا ہے۔ اگر وہ مکمل طور پر امریکی دباؤ کے سامنے جھک گیا تو اس کی سیاسی ساکھ اور ان کے دائیں بازو کے اتحادیوں کی حمایت مزید کمزور ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: برگن سٹاک میں ایران امریکہ مزاکرات کا پہلا دور تمام، اب لبنان میں حملے بندکرنے پربات ہوگی
اس اختلاف کے اثرات بہت دور رس ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے یہ اسرائیلی غیر معمولی حیثیت کے عروج کا اختتام ثابت ہو، “گریٹر اسرائیل” کے تصور کو نقصان پہنچائے، امریکہ کی غیر مشروط فوجی حمایت کو محدود کرے اور ایران کی عالمی تنہائی کو کم کرنے کا باعث بنے۔
نیتن یاہو نے اپنی سیاسی میراث کو مضبوط بنانے کے لیے ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن فتح پر سب کچھ داؤ پر لگا دیا، مگر وہ بری طرح ناکام رہا۔ اب اسے اپنے فیصلوں کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
نیتن یاہو کے لئے اب یہی بہتر ہے کہ مزید مسائل پیدا نہ کرے، مزید بہانے نہ بنائے۔
بی بی۔ انتظار نہ کرو کہ تمہیں ہٹایا جائے۔
استعفیٰ دو اور جاؤ۔
(برٹش نیوز آؤٹ لیٹ گارڈین میں شائع ہونے والے سائمن ٹیسڈیل کے مضمون کا ترجمہ)