سی سی پی او لاہور سے تاجر برادری کے وفد کی ملاقات،مسائل پر تبادلہ خیال
ڈویژنل ایس پیز اور تاجروں کے درمیان باقاعدگی سے میٹنگز کا انعقاد یقینی بنایا جائے، کاروباری اوقاتِ کار پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور اہم مارکیٹوں میں سکیورٹی گارڈز کی موجودگی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)لاہور میں سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ سے صدر انجمن تاجران مجاہد مقصود بٹ کی قیادت میں 30 رکنی وفد نے ملاقات کی۔
سی سی پی او لاہور کو ملاقات کے دوران وفد نے مارکیٹوں کی سکیورٹی، ٹریفک مسائل اور پولیس سے متعلقہ امور پر تفصیلی آگاہ کیا۔ اس موقع پر تاجر برادری اور پولیس کے درمیان روابط کو مزید بہتر بنانے اور مؤثر کوآرڈینیشن کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر انجمن تاجران مجاہد مقصود بٹ نے جرائم کی روک تھام میں لاہور پولیس کے کردار کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ نے وفد کو درپیش مسائل کے حل کی یقین دہانی کرواتے ہوئے ایس ایس پیز کو ہدایت کی کہ تاجر برادری کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈویژنل ایس پیز اور تاجروں کے درمیان باقاعدگی سے میٹنگز کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔
اس موقع پر کاروباری اوقاتِ کار پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور اہم مارکیٹوں میں سکیورٹی گارڈز کی موجودگی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی۔ سی سی پی او نے پولیس اہلکاروں کو شہریوں کی فوری داد رسی اور پیشہ ورانہ رویہ اپنانے پر زور دیا۔
دوسری جانب لاہور میں پٹرول اور توانائی کی بچت کیلئے حکومتی اقدامات مؤثر انداز میں نافذ نہ ہو سکے جبکہ انتظامیہ دکانداروں کو قانون پر عملدرآمد کروانے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔
لاہور کے علاقے مسلم ٹاؤن اور فیروزپور روڈ میں پان اور سگریٹ کی متعدد دکانیں مقررہ وقت کے بعد بھی کھلی رہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام دکانیں رات 8 بجے بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاہم کئی دکاندار اس کی خلاف ورزی کرتے دکھائی دیئے۔
اس کے علاوہ شادباغ،مصری شاہ،بادامی باغ میں بھی دکاندار من مانیاں کرتے رہے اور دکانیں کھلی رکھیں۔
عینی شاہدین کے مطابق دکاندار کھلے عام قانون کی خلاف ورزی کرتے رہے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام کاروباری افراد کے لیے یکساں قانون نافذ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض افراد کو نظر انداز کیا جاتا ہے جبکہ دیگر کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے، جو کہ ناانصافی کے مترادف ہے۔
عوام کا مزید کہنا ہے کہ اگر قانون سب کے لیے برابر لاگو کیا جائے تو نہ صرف امتیازی سلوک ختم ہوگا بلکہ ہر شخص قانون کی پابندی کرتا نظر آئے گا۔