سندھ میں سزا کا تصور ہی نہیں،سپریم کورٹ قتل کیسز میں اندراج مقدمہ میں تاخیر پر برہم

Sep 21, 2026 | 18:50:PM
سندھ میں سزا کا تصور ہی نہیں،سپریم کورٹ قتل کیسز میں اندراج مقدمہ میں تاخیر پر برہم
کیپشن: سپریم کورٹ، فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(امانت گشکوری) سپریم کورٹ نے سندھ میں قتل کیسز میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ دو تین دن تاخیر سے ایف آئی آر درج ہوگی تو ملزمان کی بریت ہی ہوگی،سندھ میں سزا کا تصور ہی نہیں، قتل کیسز کی ایف آئی آر میں تاخیر ناقابل قبول ہے۔

سپریم کورٹ میں سندھ میں قتل کیسز میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کے کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،آئی جی سندھ اور پراسیکیوٹر جنرل سے ایک ہفتے میں تحریری سفارشات طلب کر لی گئیں،قتل کیسز میں ایف آئی آر تاخیر سے درج ہونے پر عدالت نے اظہار برہمی  کیا۔

دوران سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ دو تین دن تاخیر سے ایف آئی آر درج ہوگی تو ملزمان کی بریت ہی ہوگی،سندھ میں سزا کا تصور ہی نہیں، قتل کیسز کی ایف آئی آر میں تاخیر ناقابل قبول ہے۔

جسٹس صلاح الدین پنہورنے کہاکہ گھناؤنے جرائم میں فوری ایف آئی آر درج کی جائے، ایف آئی آر کے اندراج کیلئے اجازت لینے کا سلسلہ بند کیا جائے،ملزم بااثر ہوں تو روزنامچہ بند ہوجاتا ہے،قتل کیس میں وڈیرے کی اجازت کا انتظار ہوتا ہے، بہت ہوگیا اس پالیسی کو چھوڑیں گھناؤنے جرائم میں فوری ایف آئی آر درج کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایف آئی آر درج کرنے کا ایس او پی جاری کیا جائے۔ 

ایف آئی آر میں تاخیر پر ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کے خلاف محکمانہ کارروائی کی تجویزدی گئی،تاخیر سے ایف آئی آر کے معاملے پر آئی جی سندھ سے واضح اور دوٹوک پالیسی طلب کرلی گئی۔

آئی جی سندھ نے کہاکہ ایف آئی آر میں تاخیر ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

جسٹس صلاح الدین پنہورنے آئی جی سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر ہاتھ بندھے ہیں تو ہم انہیں کھولنا چاہتے ہیں، پولیس کو ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، ایک ہفتے میں سفارشات پیش کریں،کیس کی مزید سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:بلاول بھٹو زرداری 38برس کے ہو گئے ، پی پی رہنماؤں کا نیک تمناؤں کااظہار