میڈیکل ٹیچرز کاعصر ی ضرورتوں کے مطابق خود کو ڈھالنا نا گزیر ہے: پروفیسر غیاث النبی طیب 

نوجوان ہیلتھ پروفیشنلز کامیابی کیلئے نظم و ضبط، اخلاقیات اور مثبت سوچ اپنائیں:پرنسپل پروفیسر فاروق افضل 

Nov 21, 2025 | 15:17:PM
 میڈیکل ٹیچرز کاعصر ی ضرورتوں کے مطابق خود کو ڈھالنا نا گزیر ہے: پروفیسر غیاث النبی طیب 
کیپشن: پروفیسرفاروق افضل غیاث النبی طیب کوشیلڈ دے رہے ہیں
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)امیرالدین میڈیکل کالج اورلاہور جنرل ہسپتال میں ”Working Yourself Up in Medical Professions“ کے عنوان سےسیمینار کاانعقادکیاگیا۔

پاکستان سوسائٹی آف گیسٹرو اِنٹرولوجی کے صدراورملک کے نامور معالج ومیڈیکل استادپروفیسر ڈاکٹر غیاث النبی طیب اس موقع پر مہمان خصوصی تھے،پرنسپل پروفیسر فاروق افضل کی زیرصدارت ہونیوالے اس سیمینارمیں کالج کے پروفیسرز، نوجوان ڈاکٹرز اور میڈیکل طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی،سیمینارمیں مقررین نے طبی شعبے میں بڑھتے ہوئے دباؤ، ذہنی تھکن، پیشہ ورانہ استقامت اور Self Careجیسے اہم موضوعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔


 پاکستان سوسائٹی آف گیسٹرو اِنٹرولوجی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر غیاث النبی طیب نےپی جی ایم آئی اور اے ایم سی میں فیکلٹی ڈویلپمنٹ، گرینڈ کلینیکل راؤنڈز، لیکچرز اور منٹورشپ پروگرامز شروع کرنے پر پروفیسر فاروق افضل کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف میڈیکل سٹوڈنٹس بلکہ مریضوں کو بھی مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔ 
 پروفیسر ڈاکٹر غیاث النبی طیب نے کہا ہے کہ میڈیکل ٹیچرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہتے ہوئے مسلسل اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کریں، تاکہ مستقبل کے قابل اور باصلاحیت ڈاکٹرز میدانِ عمل میں آکر دکھی انسانیت کی خدمت بہترین انداز میں کر سکیں ،اپنے اساتذہ اور مادرِ علمی کا نام روشن کریں۔
پرنسپل اے ایم سی پروفیسر فاروق افضل نے نوجوان ڈاکٹرز پر زور دیا کہ جدید طبی دنیا میں کامیابی کے لیے صرف مہارت کافی نہیں بلکہ مضبوط ذہنی کیفیت، نظم و ضبط، اخلاقی پختگی اور مثبت طرزِ فکر بھی ناگزیر ہیں،ایک کامیاب ڈاکٹر وہی ہے جو دوسروں کا علاج کرنے کے ساتھ ساتھ خود کو بھی ذہنی و جذباتی طور پر توانا رکھے۔
پروفیسر فاروق افضل نے مزیدکہاکہ نوجوان ہیلتھ پروفیشنلز اعلی تعلیم پر توجہ مرکوز کریں ،ڈسپلن کی پابندی کرنے کے علاوہ مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔ 
مہمانِ خصوصی پروفیسر غیاث النبی طیب نے عالمی سطح پر میڈیکل پروفیشن میں Self Managementکی بڑھتی ہوئی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر کے طبی ادارے ڈاکٹرز اور ہیلتھ پروفیشنلز کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دے رہے ہیں اور پاکستان میں بھی اس شعور کی ترویج ناگزیر ہو چکی ہے، ایک مضبوط، پُراعتماد اور ذہنی طور پر متوازن ڈاکٹر ہی بہترین طبی خدمات فراہم کر سکتا ہے۔ 
شرکاء نے سیمینار کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام نہ صرف علم میں اضافے کا ذریعہ ہوتے ہیں بلکہ طبی برادری میں خود اعتمادی اور پیشہ ورانہ استحکام پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
 سیمینار کے اختتام پر پرنسپل پروفیسر فاروق افضل اور کالج انتظامیہ نے مہمانانِ گرامی اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ امیرالدین میڈیکل کالج آئندہ بھی اس نوعیت کے علمی پروگرامز جاری رکھے گا۔پرنسپل پروفیسر فاروق افضل نے معروف فزیشن اور ممتاز میڈیکل ٹیچر پروفیسر غیاث النبی طیب کو یادگاری شیلڈ پیش کی ۔اس موقع پر پروفیسر محمد شاہد،پروفیسر عاکف دلشاد،پروفیسر شندانہ طارق،پروفیسر آمنہ احسن چیمہ،پروفیسر خرم سلیم،پروفیسرنگہت ہارون خان، پروفیسر طیبہ گل،پروفیسر حسن سلیمان ملک،ڈاکٹر جاوید مگسی،ڈاکٹر سائرہ ذیشان،ڈاکٹر عبدالعزیز،صائمہ فتح،نرسنگ آفیسرز اور نرسنگ کالج کی طالبات موجود تھیں۔