ہیئر ٹرانسپلانٹ کرانے والوں  کو ماہرین نے خبردار

May 21, 2026 | 22:21:PM
 ہیئر ٹرانسپلانٹ کرانے والوں  کو ماہرین نے خبردار
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(بابر شہزاد تُرک)گنجے پن سے نجات حاصل کرنے کیلئے ہیئر ٹرانسپلانٹ کرانے والوں  کو ماہرین نے خبردار کر دیا۔ 

ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی ہیئر ٹرانسپلانٹ سرجری کی کامیابی کیلئے سنگین خطرہ بن سکتی ہے،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ہیئر ریسٹوریشن سرجنز کی جانب سے عوامی آگاہی پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

 پریس کانفرنس میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سگریٹ نوشی ہیئر ٹرانسپلانٹ سرجری کی کامیابی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے،ماہر ہیئر ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر رانا عرفان نے کہا کہ تمباکو نوشی نئے لگائے گئے بالوں کی جڑوں کو کمزور کر دیتی ہے جبکہ بالوں تک خون اور آکسیجن کی فراہمی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سگریٹ نوشی کے باعث خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں جس سے نئے بال اگنے کا عمل متاثر ہوتا ہے اور بال نہ اگنے یا بہت کم اگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،ڈاکٹر رانا عرفان کے مطابق تمباکو نوشی انفیکشن، جلدی پیچیدگیوں اور بعض مریضوں میں جلد خراب ہونے کے خطرات میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ 

 انہوں نے کہا کہ ہیئر ٹرانسپلانٹ صرف گرافٹس نکالنے کا نام نہیں بلکہ مریض کے مستقل اور قیمتی ڈونر ایریا کو محفوظ رکھتے ہوئے مستقبل کی منصوبہ بندی کا عمل ہے،اگر سگریٹ نوشی کی وجہ سے گرافٹس ضائع ہو جائیں تو یہ نقصان ناقابل تلافی ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر رانا عرفان نے کہا کہ ہیئر ٹرانسپلانٹ کروانے والے افراد کو سرجری سے کم از کم دو سے چار ہفتے پہلے نکوٹین کا مکمل استعمال ترک کر دینا چاہیے جبکہ سرجری کے بعد کم از کم 12 سے 16 ہفتے تک مکمل پرہیز انتہائی ضروری ہے،انہوں نے واضح کیا کہ صرف سگریٹ ہی نہیں بلکہ ویپنگ، شیشہ، نکوٹین گمز اور تمام نکوٹین مصنوعات بھی ہیئر ٹرانسپلانٹ کے نتائج پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت پسند کی شادی پر جلائے گئے گاؤں کے تمام گھر خود تعمیر کروائےگی، صائمہ آغاکااعلان