گلگت بلتستان ماڈل: ایک کامیاب سیاسی اور سماجی چمتکار

از:احمد منصور

Jun 21, 2026 | 12:25:PM
گلگت بلتستان ماڈل: ایک کامیاب سیاسی اور سماجی چمتکار
کیپشن: 24 نیوز
سورس: 24 نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

گلگت بلتستان کے انتخابات سے قبل ایک عجیب سی فضا قائم ہو چکی تھی، نعرے، جلاؤ گھیراؤ، انتشار، فساد اور املاک کو نذرِ آتش کیے جانے کے افسوسناک واقعات سامنے آ رہے تھے۔

ایسا محسوس ہوتا تھا کہ بھارتی ایجنڈا اور سازش کسی حد تک اثر دکھانے میں کامیاب ہو گئی ہے، سوال یہ تھا کہ نفرت، تقسیم اور کشیدگی کے اس ماحول میں انتخابات آخر کیسے ہوں گے؟

لیکن پھر چند ہی ماہ  یعنی پانچ سے سات ماہ کے اندر منظرنامہ مکمل تبدیل ہوتا چلا گیا۔

قومی جذبہ دوبارہ گلگت بلتستان کی فضاؤں پر حاوی ہو گیا، فرقہ واریت کا جن دوبارہ بوتل میں بند ہونے لگا  جبکہ لسانیت کے ابھرتے طوفان بھی تھمتے چلے گئے۔

گلگت بلتستان کے کونے کونے سے روایتی اخلاص، محبت، یگانگت اور بھائی چارے کی آوازیں بلند ہونے لگیں، سیاسی جماعتیں ہوں، مذہبی طبقہ ہو یا سماجی طور پر متحرک نوجوان اور رہنما، سب ایک ہی سوچ کے تحت آگے بڑھتے دکھائی دیئے۔

شاید پہلی مرتبہ ایسا منظر بھی دیکھنے کو ملا کہ اہلِ تشیع کا ووٹ مخالف عقیدے کے امیدوار کو بھی پڑتا نظر آیا، الیکشن کو صرف ایک الیکشن تک محدود رکھا گیا، اصل مقصد اپنے علاقے کی خوبصورت شناخت کو برقرار رکھنا اور ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن رہنا بن گیا۔

یہ سب کیسے ہوا؟

جس نے بھی یہ راستہ دکھایا  اس نے سب سے پہلے گلگت بلتستان کے نوجوان کو سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے زہر سے بچایا، انتشار کو ہوا دینے والے پراگندہ ذہنوں کے مقابلے میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی گئی اور قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنایا گیا،پھر الیکشن ہوا، نتائج سامنے آئے، روایتی سیاسی رسہ کشی اور جوڑ توڑ بھی ہوا۔

پیپلز پارٹی، بلاول بھٹو زرداری اور ان کی ٹیم نے غیر معمولی سیاسی مہارت کا مظاہرہ کیا، مسلم لیگ (ن) کو سخت مقابلہ دیا اور سوشل میڈیا کے منفی پروپیگنڈے پر یقین رکھنے والوں کی توقعات غلط ثابت کر دیں۔

بعد ازاں آزاد ارکان کی سیاسی ترتیب کے ذریعے باقی ماندہ سیاسی عدم استحکام کے امکانات بھی ختم کر دئیے گئے، اس مرحلے پر علیم خان بھی کارآمد ثابت ہوئےاور پھر ایک اہم موڑ آیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے، مسلم لیگ (ن) کے لیے حکومت سازی کے امکانات موجود ہونے کے باوجود، پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کا احترام یقینی بنایا۔

امجد حسین ایڈووکت متفقہ وزیراعلیٰ کے طور پر سامنے آ گئے۔

مسلم لیگ (ن) اپوزیشن بنچوں پر، لیکن روایتی ٹانگیں کھینچنے والی اپوزیشن کی بجائے گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کے ایجنڈے کو ترجیح دی، وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ دینے کا فیصلہ اسی سوچ کا عکاس ہے۔

پیپلز پارٹی نے بھی سیاسی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا، گورنر اور دیگر آئینی عہدوں کے معاملے میں مسلم لیگ (ن) کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا۔

یوں استحکام پاکستان پارٹی کی مدد سے پیپلز پارٹی اتحادی حکومت میں  جبکہ مسلم لیگ (ن) نے ایشو بیسڈ اپوزیشن کا راستہ اختیار کیا۔

البتہ یہ آپشن بھی برقرر ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کی حکومت بہتر گورننس فراہم نہ کر سکی تو مسلم لیگ (ن) اس کے لیے ایک حقیقی سیاسی چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

اب آزاد کشمیر میں بھی انتخابات سر پر ہیں،وہاں بھی الیکشن سے پہلے ماحول خاصا خراب دکھائی دیتا ہے  تاہم بعید نہیں کہ گلگت بلتستان کے باشعور عوام کی طرح آزاد کشمیر میں بھی اسی نوعیت کا مثبت منظرنامہ سامنے آئے۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو گلگت بلتستان کی یہ کامیاب مثال پورے ملک کے لیے ایک رہنما ماڈل بن سکتی ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ آج گلگت بلتستان ماڈل بعض حوالوں سے وفاق کے گورننس ماڈل سے بھی آگے دکھائی دیتا ہے، جہاں انتشار کی سیاست کرنے والی "جماعت" کا نام و نشان تک موجود نہیں۔

اسی لیے جو لوگ وفاق میں "جولائی تبدیلی" کے کالم لکھ رہے ہیں، انہیں اپنے تجزیوں میں گلگت بلتستان کے اس اپ گریڈ ماڈل کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔

کیونکہ بعض اوقات سیاسی استحکام کا راستہ دارالحکومت سے نہیں، بلکہ ملک کے دور افتادہ مگر باشعور خطوں سے نکلتا ہے۔