مودی سے سادہ سوال نارویجن صحافی کے انسٹاگرام اور فیس بک سسپینڈ کروا گیا

May 20, 2026 | 21:04:PM
مودی سے سادہ سوال نارویجن صحافی کے انسٹاگرام اور فیس بک سسپینڈ کروا گیا
کیپشن: ہیلے لینگ اپنے انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس کا کنترول دوبارہ ھاصل کرنے کے لئے میٹا سے اپیل کرنے کی تیاری کر رہی ہیں لیکن کسی بظاہر جرم کی عدم موجودگی میں ان کے اکاؤنٹس اب تک سسپینڈ رہنا حیران کن ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)اوسلو میں بھارت کے  وزیر اعظم نریندر مودی سے چلتے چلتے چبھتا ہوا  سوال کرنے والی نارویجن صحافی کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا، مودی نے صحافی کے  سوال کا  کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ سوال کی ویڈیو کلپ فوراً وائرل ہو گئی۔ صحافی خاتون کو  سادہ سےسوال کا جواب تو نہ ملا البتہ ان کے دو سوشل اکاؤنٹ سسپینڈ ہو گئے۔ 

میڈیا میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایک بار پھر آزادیِ اظہار اور میڈیا کی آزادی سے حوالے سے  تنقید کی زد میں ہیں۔

میڈیا کی رپورٹس میں بتایا کہ ناروے کی صحافی ہیلی لینگ نے بھارت میں انسانی حقوق اور میڈیا آزادی سے متعلق سوالات پوچھے، جس کے بعد ان کے دو  سوشل میڈیا اکاؤنٹ مبینہ طور پر سسپینڈ کردیئے گئے۔

صحافی ہیلی لینگ نے اس اقدام کو "پریس فریڈم پر حملہ” قرار دیا اور اپنے بیان میں کہا کہ بھارت میں آزاد صحافت دباؤ کا شکار ہے اور سچ بولنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال اور صحافیوں کو درپیش خطرات پر عالمی سطح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ہیلی لینگ  نے کہا کہ بھارت میں اب تک کئی صحافی مارے جا چکے ہیں، بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے حقائق سامنے آنا چاہیں۔

ہیلی لینگ نے مزید کہا میں خوش قسمت ہوں کہ ناروے میں رہتی ہوں، بھارت میں نہیں، بھارت میں سچ بولنا مشکل ہو چکا ہے۔ ہیلی لینگ نے کہا،  مودی جمہوریت کی بات کرتے ہیں مگر انہیں آزاد صحافت برداشت نہیں۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھارت میں انسانی حقوق کی سورتحال کے حوالے سے ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے، اور بھارت میں آزادیِ اظہار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ہیلے لینگ کے انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹ سسپینڈ ہوئے

 نارویجن اخبار Dagsavisen کی صحافی ہیلے لِنگ (Helle Lyng) کے انسٹاگرام  اور فیس بک اکاؤنٹس کو میٹا (Meta) کی جانب سے معطل کیا گیا ہے۔ 
اس اچانک معطلی کے پیچھے جو کہانی اور وجوہات سامنے آئی ہیں، ان میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کا نام آ رہا ہے۔


تنازع کی شروعات
یہ معاملہ مئی 2026 میں اس وقت شروع ہوا جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پانچ ممالک کے غیر ملکی دورے پر ناروے پہنچے۔ ناروے کے وزیر اعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے اختتام پر جب مودی وہاں سے جانے لگے، تو ہیلے لِینگ نے ہال سے باہر جاتے ہوئے انہیں بلند آواز میں ٹوکتے ہوئے سوال کیا: "وزیر اعظم مودی، آپ دنیا کے سب سے آزاد میڈیا سے کچھ سوالات کیوں نہیں لیتے؟" ( ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں ناروے پہلے اور بھارت 157ویں نمبر پر ہے)۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شدید وائرل ہو گئی تھی۔
 
ہیلے لینگ کے اکاؤنٹس معطل ہونے کی وجوہات
اگرچہ فیس بک اور انسٹاگرام کی پیرنٹ کمپنی 'میٹا' نے  ہیلے لینگ کے دو اکاؤنٹس کو سسپینڈ کئے جانےکی کوئی آفیشل تفصیلی وجہ جاری نہیں کی، لیکن صورتحال سے دو بنیادی وجوہات سامنے آئی ہیں۔
شدید آن لائن ٹرولنگ اور ماس رپورٹنگ (Mass Reporting): م۲ودی سے چلتے چلتے کئے سوال کی ویڈیو وائرل ہونے کے فوراً بعد ہیلے لِینگ کو سوشل میڈیا پر  مودی کے حامیوں کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔  ٹرولز کی طرف سے ان پر "بھارت مخالف مہم چلانے"، "غیر ملکی جاسوس" اور "چینی ایجنٹ" ہونے جیسے  الزامات لگائے گئے۔ اس دوران ہزاروں صارفین نے مسلسل ان کے اکاؤنٹس کو بلاک کیا اور رپورٹ (Report) کیا، جس کے باعث فیس بک اور انسٹاگرام کے خودکار سکیورٹی سسٹم (Algorithmic Filter) نے ہیلے کے دو  اکاؤنٹس معطل کر دیے۔  

یہ بھی پڑھیں: 24 گھنٹوں میں ملک کے مختلف اضلاع میں بارش، ژالہ باری کا الرٹ جاری
بہت زیادہ انڈین  ناقدین کو جواب دینے کی کوشش: صحافی نے خود بتایا کہ وہ مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر تو فعال ہیں، لیکن انسٹاگرام اور فیس بک پر وہ آنے والے ہزاروں انڈین صارفین کے پیغامات کا جواب دینے کی کوشش کر رہی تھیں، جس کے بعد ان کے اکاؤنٹس بلاک ہوئے۔  بتایا جاتا ہے کہ بعض  سوشل پلیٹ فارمز کے  الگورتھم کسی اکاؤنٹ سے غیر معمولی سرگرمی یا بہت زیادہ کمنٹس اور میسجز کا جواب دینے پر اکاؤنٹ کو بوٹ کے ذریعہ آپریٹ کیا جا رہا  یا سپیم سمجھ کر معطل کر دیتے ہیں۔
 
پریس کی آزادی کیلئے یہ بہت چھوٹی قیمت ہے؛ ہیلے لینگ کا ردعمل
ہیلے لِینگ نے  اپنے انسٹا گرام اور فیس بک اکاؤنٹ سسپینڈ ہونے کو منظم حملے کا نتیجہ تصور کرتے ہوئے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ایکس (X) پر اپنے اکاؤنٹس کی معطلی کے اسکرین شاٹ شیئر کئے اور ایکس پر لکھا،  "پریس کی آزادی کے لیے یہ ایک بہت چھوٹی قیمت ہے جو میں نے ادا کی ہے، لیکن میں نے زندگی میں پہلے کبھی ایسا تجربہ نہیں کیا۔"
ہیلے لینگ نے یہ وضاحت بھی  کی کہ وہ کسی ملک کی جاسوس نہیں ہیں بلکہ بطور صحافی طاقتور حکمرانوں سے براہِ راست سوال پوچھنا ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔ اس پورے تنازعہ کے بعد ایکس (X) پر  خاتون صحافی کے فالوورز کی تعداد چند سو سے بڑھ کر  45,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔  البتہ فیس بک اور انسٹاگرام پر ان کی واپسی اب تک نہیں ہو سکی۔

یہ بھی پڑھیں: صنم جاوید کی 9 مئی کے مقدمے سزا معطلی اور رہائی کی درخواست پر اہم پیش رفت