امریکہ ایران میں شخصیات پر حملے کرے گا، واشنگٹن سے آنے والی "لیک"

Feb 20, 2026 | 22:07:PM
امریکہ ایران میں شخصیات پر حملے کرے گا، واشنگٹن سے آنے والی
کیپشن:  لوگ 17 فروری 2026 کو تہران، ایران کی ایک سڑک پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور 1979 کےانقلاب  کے رہبر خمینی کی تصاویر والی دیوار کے قریب سے چل رہے ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) ایران پر امریکہ کے حملے کی قیاس آرائیوں کے بعد اب یہ خبر سامنے آ گئی ہے کہ امریکہ دراصل ایران کے اندر خاص شخصیات پر حملے کرنا چاہتا ہے اور ان شخصیات سے منسلک افراد کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ 

 ایک انترنیشنل نیوز ایجنسی کی ایکسکلوسِو خبر میں امریکہ کے ذمہ دار حکام کے حوالے سے  بتایا گیا ہے کہ ایران پر امریکی حملے انفرادی رہنماؤں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

اس وقت ایران اور امریکہ کی کشیدہ سورتحال کا خلاصہ یہ ہے کہ کل ہی صدر ٹرمپ نے ایران کو "سمجھوتہ" کے لئے دس دن کی مہلت دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قطع نظر  ٹرمپ کے فیصلے سے پہلے امریکی فوجی منصوبہ بندی انتہائی ترقی یافتہ سطح پر ہے، یعنی تقریباً مکمل۔
امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ جون میں اسرائیلی حملے 'تعلیمی'  نوعیت کےتھے۔
امریکی حکام کو توقع ہے کہ ایران  پر جب بھی حملہ کیا جائے گا ایران خطرات کو بڑھاتے ہوئے جوابی جنگ کرے گا۔

ریجیم چینج کی تیاری مکمل ہے! امریکی عہدیداروں کا انکشاف

آج  20 فروری کو واشنگٹن میں  دو امریکی عہدیداروں نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ایران پر امریکی حملے کی فوجی منصوبہ بندی ایک اعلی درجے کے مرحلے میں پہنچ گئی ہے جس میں حملے کے ایک حصے کے طور پر افراد (خاص شخصیات)کو نشانہ بنانا اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حکم پر تہران میں حکومت کی تبدیلی کا عمل شامل ہے۔
نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ فوجی آپشنز تازہ ترین نشانیاں ہیں کہ سفارتی کوششین ناکام ہوتے ہی، امریکہ ایران کے ساتھ ایک سنگین تنازعے کی تیاری کر رہا ہے۔ 

اسی نیوز ایجنسی نے گزشتہ ہفتے سب سے پہلے اطلاع دی تھی کہ امریکی فوج ایران کے خلاف کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے آپریشن کی تیاری کر رہی ہے جس میں ایرانی سکیورٹی تنصیبات اور نیوکلیئر انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
تازہ ترین انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ کے فیصلہ کرنے سے پہلے  فوجی حملے کی ایمبیشئیس پلاننگ مکمل کر لی ہے۔ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اسلامی جمہوریہ میں حکومت کی تبدیلی (ریجیم چینج) کا خیال عوامی سطح پر پیش کیا۔ اس سے پہلے امریکہ یہ بات پبلک کے سامنے کہنے سے گریز کرتا رہا ہے۔

نشانہ کون شخصیات ہوں گی، حکام کا بتانےسےگریز

امریکی حکام، جنہوں نے ایران پر حملے کے منصوبہ بندی کی حساس نوعیت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی،  انہوں نے مزید تفصیلات پیش نہیں کیں کہ کن افراد کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے یا امریکی فوج بڑی زمینی قوت کے بغیر حکومت کی تبدیلی کی کوشش کیسے کر سکتی ہے۔
حکومت کی تبدیلی  کے آئیڈیا کا تعاقب صدارتی مہم کے دوران ٹرمپ کے وعدوں سے ہٹ کر ایک اور تبدیلی کی نشاندہی کرے گا ۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے  دوسرے ملکوں میں حکومتین گرانے کی پالیسی کو ماضی کی حکومتوں کی ناکام پالیسیاں شمار کیا تھا۔ ان کے نزدیک افغانستان اور عراق میں حکومتوں کو گرانے کی فوجی کوششیں  امریکہ کو نقصان پہنچانے کا سبب بنی تھیں۔

طویل دورانیہ کے ہوائی حملوں پر فوکس

اب کچھ ہفتوں کے دوران ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں بڑی مقدار میں فائر پاور اکٹھی کی ہے لیکن زیادہ تر جنگی صلاحیتیں جنگی جہازوں اور لڑاکا طیاروں کے سکواڈ  ہیں۔ کوئی بھی بڑی بمباری مہم امریکہ میں مقیم بمبار طیاروں کی حمایت ملنے پر بھی بھروسہ کر سکتی ہے۔
اپنی پہلی مدت میں،صدر ڈونلڈ  ٹرمپ نے ایران کے اعلیٰ ترین جنرل قاسم سلیمانی پر 2020 کے حملے کی منظوری دی تھی۔    قاسم سلیمانی نے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کے غیر ملکی جاسوسی اور نیم فوجی دستے کی قیادت کی تھی، جسے قدس فورس کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے 2019 میں باضابطہ طور پر IRGC کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کا لیبل لگایا تھا، پہلی بار واشنگٹن نے کسی دوسرے ملک کی فوج پر اس عہدہ کا اطلاق کیا تھا۔
امریکی عہدیداروں میں سے ایک نے گذشتہ سال ایران کے ساتھ اپنی 12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنانے میں اسرائیل کی کامیابی کو نوٹ کیا۔ اس وقت علاقائی ذرائع نے نیوز ایئجنسی کو بتایا کہ مسلح افواج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد باقری سمیت کم از کم 20 سینئر کمانڈر مارے گئے تھے۔

Caption   تہران میں لوگ لوگ امریکہ  کے خلاف  آویزاں کئے گئے بہت بڑے بل بورڈ کے قریب سے گزر رہے ہیں۔ یہ تصویر  17 روری کو بنائی گئی۔

امریکی اہلکار نے کہا کہ "12 روزہ جنگ اور انفرادی اہداف کے خلاف اسرائیلی حملوں نے واقعی اس نقطہ نظر(شخصیات کے خاتمہ) کی افادیت کو ظاہر کیا،" انہوں نے مزید کہا کہ توجہ IRGC فورسز کی کمانڈ اور کنٹرول میں شامل افراد پر مرکوز تھی۔
پھر بھی، اہلکار نے خبردار کیا کہ افراد کو نشانہ بنانے کے لیے اضافی انٹیلی جنس وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی خاص فوجی کمانڈر کو مارنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کے صحیح مقام کو جاننا اور یہ سمجھنا کہ آپریشن میں اور کس کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
نیوز ایجنسی کے ساتھ بات کرنے والے اہلکاروں کے لیے یہ واضح نہیں تھا کہ امریکہ کے پاس ایرانی رہنماؤں کے بارے میں کیا انٹیلی جنس ہے جنہیں امریکہ ممکنہ طور پر نشانہ بنا سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

ایک ممکنہ مقصد  خامنہ ای کے زیر اثر چل رہے نظام کو تبدیل کرنا ہے
ٹرمپ نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے امکان کو کھلے عام پیش کیا ہے، پچھلے ہفتے کہا تھا کہ "ایسا لگتا ہے کہ یہ سب سے بہتر چیز ہو گی۔" انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ وہ ایران پر موجودہ حکومت کو ہٹا کر  کس کا قبضہ کروانا چاہتے ہیں، لیکن کہا، "وہاں لوگ موجود ہیں۔"

جب کہ حکومت کی تبدیلی کی ممکنہ کارروائیوں میں روایتی طور پر امریکی زمینی افواج کی بڑی نقل و حرکت شامل رہی ہے، ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو بے دخل کرنے کے لیے خصوصی آپریشنز فورسز کااستعمال کیا، اور انھیں گزشتہ ماہ ان کے کاراکاس کمپاؤنڈ سے ایک بہادر چھاپے میں پکڑنے کے لیے بھیجا۔

معاہدہ ہونے کا انتظار یا معاہدہ نہ ہونے کا انتظار

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کسی نہ کسی طرح من چاہی شرائط پر ایران کی موجودہ حکومت سے ہی معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن تیاریوں سے یہ شبہ بھی تقویت پاتا ہے کہ امریکہ معاہدہ نہ ہونے کی ہی توقع کر رہا ہے۔
 امریکی صدر نے بھی سفارت کاری کی امید ظاہر کرتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ اگر کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو "واقعی بری چیزیں" ہوں گی۔  ٹرمپ نے امریکہ کی طرف سے کارروائی کرنے سے پہلے 10 سے 15 دن کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔
اس دوران ایران کے پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی سرزمین پر حملہ کیا تو وہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔
امریکہ کے اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ترکی سمیت پورے مشرق وسطیٰ میں اڈے ہیں۔
جمعرات کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو لکھے گئے خط میں تہران نے کہا کہ وہ کوئی جنگ شروع نہیں کرے گا لیکن "اس صورت میں کہ اسے فوجی جارحیت کا نشانہ بنایا گیا، ایران اپنے دفاع کے حق کے استعمال میں فیصلہ کن اور متناسب جواب دے گا"۔

یہ بھی پڑھیئے: جنگ نہیں چاہتے لیکن حملہ ہوا تو دشمن کو نشانہ بنائیں گے: ایران
امریکی حکام نے انٹرنیشنل نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ وہ پوری طرح سے توقع کرتے ہیں کہ ایران حملے کی صورت میں جوابی جنگ کرے گا، جس سے امریکی جانی نقصان اور علاقائی تنازعے کا خطرہ بڑھ جائے گا، اس لیے کہ ایران کے میزائل ہتھیاروں سے آگ لگنے والے ممالک کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
ایران پر بمباری کرنے کی ٹرمپ کی دھمکیوں نے تیل کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے، اور جمعرات کو ایک روسی جنگی جہاز خلیج عمان میں ایرانی بحری مشقوں میں شامل ہوا، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔


آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیاں اور عملی امکانات
تہران ماضی میں دھمکی دیتا رہا ہے کہ اگر حملہ کیا گیا تو آبنائے ہرمز کو بند کر دیا جائے گا، ایسا اقدام جس سے عالمی سطح پر تیل کے بہاؤ کا پانچواں حصہ بند ہو جائے گا۔ اس کے باوجود  12 روزہ جنگ کے دوران خلیج فارس سے دنیا کو تیل کی ترسیل بند نہیں ہوئی تھی۔ حتیٰ کہ اسرائیل نے بھی ایران کی تیل کی انڈسٹری کو حملوں کا نشانہ  بنانے سے عمومی احتراز کیا تھا۔

عباس عراقچی کا مذاکرات میں رہنما اصول طے ہونے کا اعلان

ایرانی اور امریکی مذاکرات کاروں نے منگل کو ملاقات کی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ انہوں نے "رہنما اصولوں" پر اتفاق کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے بدھ کو کہا کہ تاہم، دونوں فریق کچھ معاملات پر بہت دور ہیں۔
ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر بڑی رعایتیں دینے کی مخالفت کی ہے، حالانکہ اصرار ہے کہ یہ پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ماضی میں تہران پر جوہری بم بنانے کی کوشش کرنے کا الزام لگا چکے ہیں۔
ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا کہ ایران امریکی خدشات کو دور کرنے کے بارے میں ایک تحریری تجویز پیش کرے گا۔
ٹرمپ نے بدھ کے روز تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ "امن کے راستے" پر امریکہ کے ساتھ شامل ہو۔
انہوں نے کہا کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے، یہ بہت آسان ہے۔ اگر ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوں تو مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیئے:  رمضان کریم کا پہلا جمعہ، اسرائیل نے ہزاروں فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ جانے کی اجازت نہیں دی