رمضان کریم کا پہلا جمعہ، اسرائیل نے ہزاروں فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ جانے کی اجازت نہیں دی

Feb 20, 2026 | 17:37:PM
 رمضان کریم کا پہلا جمعہ، اسرائیل نے ہزاروں فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ جانے کی اجازت نہیں دی
کیپشن: فلسطین میں دریائے اردن کے مغربی کنارے میں یروشلم کی جانب جانے والی سڑک پر  قلندیہ چوکی کے قریب،  آج رمضان شریف کے پہلے جمعہ کی نماز میں شرکت کے لیے  جانے کے لئے ہزاروں مرد و خواتین مسجد اقصی جانے کے لئے چیک پوسٹ سے گزرنے کی اجازت ملنے کے منتظر ہیں۔ صرف پچاس سال سے زیادہ عمر کی خواتین، 55 سال کے مردوں اور 12 سال سے چھوٹے بچوں کو مسجد جانے کی اجازت دی گئی۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بیت المقدس میں رمضان کے پہلے جمعہ کے روز  اسرائیل نے فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ کے احاطے تک رسائی محدود کر دی۔   دس ہزار افراد کو مسجد اقصیٰ میں نماز کے لئے جانے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ مسجد میں جانے کے لئے مغربی کنارے (فسلطین) سے آنے والےمسلمانوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔

عرب میڈیا میں رپورٹ ہوا ہے کہ رام اللہ کے قریب قلندیہ چیک پوائنٹ پر سینکڑوں فلسطینی طویل قطاروں میں کھڑے ہیں اور یروشلم میں داخلے کی اجازت کے منتظر ہیں۔

الجزیرہ نیوز نے بتایا کہ  اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس جمعہ کو  مقبوضہ مغربی کنارے سے صرف 10,000 فلسطینیوں کو داخلے کی اجازت دے گا، جو پچھلے سالوں کے لاکھوں نمازیوں کا ایک قلیل حصہ ہے۔

Caption   فلسطینی نمازی جمعہ، 20 فروری کو  رمضان  کریم کے پہلے جمعہ کی نماز  مسجد اقصیٰ میں پڑھنے  کی امید میں مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ اور مشرقی یروشلم کے درمیان اسرائیلی فوج کی قلندیہ چوکی سے گزرنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے سے خصوصی اجازت نامے کے ساتھ صرف 10 ہزار فلسطینیوں کو آج کے دن مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت دی جائے گی تاہم یہ تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: زراعت کیلئے گیم چینجر منصوبہ؛  تھر کے کوئلے سے اب سستی یوریا کھاد بھی بنے گی

اسرائیلی حکام نے بتایا کہ  12 سال سے کم عمر بچے، 55 سال سے زائد عمر کے مرد اور 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین ہی آج مسجد اقصیٰ میں جانےکے اہل ہوں گے۔

اسرائیل کے نیوز  چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق صبح تک تقریباً 2 ہزار فلسطینی  قلندیہ چیک پوائنٹ سے بیت المقدس کی جانب گزرنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس کو علیحدہ کرنے والے چیک پوائنٹس پر اسرائیلی فوج کا ہائی الرٹ برقرار ہے۔