آئی ایم ایف کا پاکستان میں ای آبیانہ نظام لاگو کرنے پر زور
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) آبپاشی کیلئے پانی کی قیمت اور پانی وصولی کو بہتر بنانے کیلئے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پنجاب میں ای۔آبیانہ نظام لاگو کرنے اور رفتہ رفتہ دیگر صوبوں تک پھیلانے پر زور دیا ہے۔
وزارت آبی وسائل کے مطابق اس طرح چاروں صوبوں سے 300ارب سے 325 ارب روپے تک آمدنی ہو سکتی ہے۔
آبیانہ سےہونیوالی آمدنی آبپاشی نظام کو بہتر بنانے اور مستقبل میں پانی کے قومی منصوبوں جیسے ڈیم بنانے کیلئے کام آسکتی ہے۔
آئی ایم ایف نے گزشتہ روز اپنا پہلا جائزہ مکمل ہونے پر جاری روپوٹ میں کہا کہ ای۔آبیانہ نظام لاگو کرنے سے واٹر منیجمنٹ کو موثر ومضبوط بنایا جاسکتا ہے۔
مزید پڑھیں:بارشوں کا نیا سسٹم ملک میں داخل، پشاور میں آندھی نے تباہی مچا دی،3 افراد جاں بحق
دوسری طرف وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے پانی کی قیمت طے کرنے کے عمل پر پہلے سے کام شروع کرچکی ہے۔
ایک ٹاک فورس سے 2012ء میں سفارش کی تھی کہ ڈائریکٹر گراؤنڈ واٹر کو پمپ کرنے پر 25۔80ڈالرز لاگت آتی ہے جو ایک سال میں سطح پر ایکڑ پانی کی قیمت ہونی چاہیے۔
اگر حکومت کسانوں سے سالانہ فی ایکڑ کم سے کم 25 ڈالرز (7ہزار روپے) پانی کی قیمت وصول کرنا شروع کردے تو سالانہ 325ارب روپے وصول ہو سکتے ہیں۔