خیبرپختونخوا کا 2170 ارب روپے کا بجٹ پیش، کم از کم اجرت 45 ہزار روپے مقرر

Jun 19, 2026 | 18:32:PM
خیبرپختونخوا کا 2170 ارب روپے کا بجٹ پیش، کم از کم اجرت 45 ہزار روپے مقرر
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 ںیوز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے لیے ’’خوشحال خیبرپختونخوا‘‘ بجٹ پیش کر دیا، جس کا مجموعی حجم 2170 ارب روپے رکھا گیا ہے، صوبے بھر میں کم سے کم اجرت45 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق 1645.708 ارب روپے جاری اخراجات جبکہ 524.292 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی وصولیوں کا تخمینہ 2122 ارب روپے لگایا گیا ہے، جبکہ 48 ارب روپے کے متوقع خسارے کو صوبائی بچتوں سے پورا کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے کوئی نیا قرض نہیں لیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبائی محصولات کا تخمینہ 182.41 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 50 ارب روپے زیادہ ہے، انہوں نے واضح کیا کہ بجٹ میں عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ بجٹ کو نو اہم موضوعاتی شعبوں کے گرد ترتیب دیا گیا ہے، جن میں امن و امان اور عوامی تحفظ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191.393 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ پولیس پروکیورمنٹ پلان کے لیے 14.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس رقم سے جدید اسلحہ، بلٹ پروف گاڑیاں، آرمرڈ پرسنل کیریئرز (APCs)، ڈرونز اور اینٹی ڈرون سسٹمز خریدے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا  کے مطابق پولیس کی ماہانہ آپریشنل سپورٹ کے لیے 7.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ مختلف اضلاع میں نئے سیف سٹی منصوبے شروع کیے جائیں گے اور پشاور میں جدید فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی جائے گی۔ ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیسنگ کے فروغ کے لیے ایک ارب روپے بھی مختص کیے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ تعلیم کے شعبے میں پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے لیے گرانٹ اِن ایڈ بڑھا کر 11.8 ارب روپے کر دی گئی ہے۔ بجٹ میں 5 ارب روپے کی لاگت سے خیبر انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ اینڈ ماڈرن سائنسز اور 5 ارب روپے کی لاگت سے ٹرائیبل میڈیکل کالج کے قیام کی تجویز شامل ہے۔ اس کے علاوہ صوبے میں 14 نئے سرکاری کالجوں کی تعمیر کے لیے 363 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے 1.5 ارب روپے کی لاگت سے انٹرن شپ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، جبکہ یونیورسٹی طلبہ کے لیے بلا سود قرضوں کی مد میں 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ زرعی گریجویٹس کے لیے بھی بلاسود قرضوں کا نیا پروگرام متعارف کرایا جا رہا ہے۔

گڈ گورننس، شفافیت، ڈیجیٹلائزیشن اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے 19.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد (ٹی ڈی پیز) کے لیے 17 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کی جانب سے 2022 سے ٹی ڈی پیز فنڈز جاری نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے وفاق سے مسلسل رابطہ کیا جا رہا ہے۔

 وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں ہزارہ ڈویژن کے لیے 200 ارب روپے کا خصوصی ترقیاتی پیکج شامل کیا گیا ہے۔ صوبے میں روڈ انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے 52.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کے لیے 12.7 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے مطابق ’’احساس کسان‘‘پروگرام کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ بیرون ملک جانے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بھی 2 ارب روپے کا فنڈ رکھا گیا ہے تاکہ روزگار کے مواقع میں سہولت فراہم کی جا سکے۔ ضم شدہ اضلاع میں گھروں کی سولرائزیشن کے لیے 13 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ بی آر ٹی سسٹم کے لیے الیکٹرک بسوں کی خریداری کے منصوبے پر 4.9 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔

ماحولیاتی اور ٹرانسپورٹ اصلاحات کے تحت الیکٹرک بائیکس اور رکشوں کے فروغ کے لیے 2.5 ارب روپے کی مارک اپ فری سبسڈی فراہم کی جائے گی، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیا گیا ہے جس کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7، 7 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022 اور 2025 کو بنیادی تنخواہ میں ضم کیا جا رہا ہے، اسی طرح کنوینس الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ اور اسپیشل کنوینس الاؤنس 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے میں کم از کم اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ