سندھ میں ڈینگی اور ملیریا کے کیسز میں اضافہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) حیدرآباد سمیت اندرون سندھ کے کئی اضلاع میں، ڈینگی وائرس اور ملیریا کیسز تھمنے کا نام نہیں لے رہے لیکن اس کے باوجود ان سے بچاؤ کے اقدامات دیکھنے میں نظرنہیں آرہے ۔
روزانہ سیکڑوں کی تعداد میں مریض ہسپتالوں، کلینکس اور نجی اسپتالوں یا گھروں میں علاج کرانے پر مجبور ہیں لیکن ڈینگی اور ملیریا پرقابوپانے کے اقدامات دیکھنے میں نظر نہیں آرہے۔
ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین کے مطابق ڈینگی وائرس کا شکار ہوکر اب تک 4 افراد انتقال کرگئے ہیں۔
مزید پڑھیں:حیدر آباد میں تمباکو نوشی پر مکمل پابندی عائد
لیاقت یونیورسٹی ڈائگنوسٹک ریسرچ لیبارٹری کے اعدادشمار کے مطابق صرف ماہ اکتوبر میں اب تک سندھ بھر میں 17364 افراد کی اسکریننگ کی گئی جس میں سے 7679 افراد کے ڈینگی کیسز مثبت نکلے جب کہ صرف حیدرآباد قاسم آباد لطیف آباد میں 6486 افراد کے ڈینگی کیسز مثبت آئے۔
محکمہ صحت سندھ کے مطابق ملیریا سے ماہ جنوری سے اب تک 24 لاکھ 16 ہزار427 افراد کی اسکریننگ کی گئی جس میں سے 2 لاکھ 15 ہزار 270 افراد ملیریا کا شکار ہوئے۔
سندھ حکومت کی جانب سے صرف انسداد ملیریا پروگرام کے لیے ایک ارب 21 کروڑ روپے بجٹ مختص کیے گئے ہیں لیکن لاکھوں کی تعداد میں ملیریا کے بڑھتے ہوئے کیسز نے اس پروگرام پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔