عمران خان اپنی منصوبہ بندی پارٹی کو دے چکے،اب پارٹی نے فیصلہ کرنا ہے؛ علیمہ خان

Nov 18, 2025 | 18:58:PM
عمران خان اپنی منصوبہ بندی پارٹی کو دے چکے،اب پارٹی نے فیصلہ کرنا ہے؛ علیمہ خان
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ارشاد قریشی ) بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان عمران خان اپنی منصوبہ بندی پارٹی کو دے چکے،اب پارٹی نے فیصلہ کرنا ہے، 27ویں ترمیم کے ذریعے آپ سے انصاف کا حق لے لیاگیا،صرف پی ٹی آئی نہیں پوری پاکستانی عوام پر ظلم ہے۔

اولپنڈی فیکٹری ناکے کے قریب گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھاکہ ہم احتجاج بانی پی ٹی آئی کے حقوق کے لیے کر رہے ہیں،بانی پی ٹی آئی کا حق ہے فیملی اور وکلا سے ملاقات کریں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ دو ہفتوں سے نورین خانم کی ملاقات ہورہی،میری ملاقات نہیں ہونے دی جارہی،یہ لوگ ڈرے ہیں،بانی کا پیغام نہ باہر آجائے۔ 

27 ترمیم کے بعد حالات بدل لگتا ہے 28 ترمیم کے بعد بلڈنگ ختم ہو جائے گئی،جہاں سے فیصلہ آنا ہوگا اجائے گا،بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے پاکستان میں ایک ظالم نظام رائج کیا جارہا ہے  عوام کی آواز کو بند کیا جارہا ہے، 27ویں ترمیم جس کے ذریعے آپ سے انصاف کا حق لے لیا جائے صرف پی ٹی آئی نہیں پوری پاکستانی عوام پر ظلم ہے  اگر اس کے خلاف قوم کھڑی نہ ہوئی تو پھر بھیڑ بکریاں بنا دی جائے گی،عمران خان نے یہ بارہا کہا ہے کہ اپنے حقوق کے لیے آپ کو کھڑے ہونا پڑے گا آپ مانگے گے تو ہی حق ملے گا۔

اگر پچھلا دور ہوتا اور کورٹ کے حکم عدولی ہوتی تو یہاں پولیس اور ائی جی کی لائن لگی ہوتی،پہلے توہین عدالت کا ایک ڈر ہوا کرتا تھا، آج کل لوگ مذاق سمجھتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے لوگ قانون کے مطابق چلے ہیں،اسی امید میں پی ٹی آئی ہائیکورٹ اور اب سپریم کورٹ میں بھی پٹیشن داخل کر رہی ہے ۔

علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اپنی منصوبہ بندی پارٹی کو دے چکے اب پارٹی نے فیصلہ کرنا ہے ،بانی پی ٹی آئی اس وقت قید میں ہیں ہم نے انہیں رہا کروانا ہے انہوں نے ہمیں نہیں بتانا کس طرح کرنا ہے،انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آج اگر ہماری جکہ پی پی پی یا ن لیگ کے لوگ ہوتے تو کیا ان کے ساتھ بھی ایسا کچھ ہوتا؟؟اور ان کو روکا جاتا 
بانی پی ٹی آئی کی جماعت پر امن ہے ہم یہاں آتے ہیں اور انتظارِ کرتے اور واپس چلے جاتے ہیں،آج ہم نے کہا ہے کہ بے شک پرچے دو یا ہم سب کو جیل میں ڈال دو ہم نہیں گھبراتے آج ہم کو اگر ملاقات کی اجازت نہ ملی تو یہاں سے نہیں اٹھیں گے،عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنا غیر قانونی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :  لاہور؛ ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار