قانون سویا رہا، جسم فروش 33 عورتوں کو پنجاب سے اکٹھا کر کے باہر بھیجنے کے لئے کراچی لے گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(درشہوار) رمضان کے مہینے میں درجنوں خواتین کو مزموم مقاصد کے لئے سمگل کر کے بیرون ملک بھیجنے کی کوشش کرنے والے گروہ کو آخری لمحوں میں پکڑ لیا گیا۔ ان عورتوں کو کئی شہروں اور دیہات میں ان کے گھروں سے جمع کرنے کے سارے عمل کے دوران قانون سویا رہا۔
ایف آئی اے، پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اہلکار بے خبر رہے اور ہیومن سمگلرز نے پاکستان سے 33 عورتوں کو مذموم دھندے میں استعمال کرنے کے لئے پاکستان سے باہر سمگل کرنے کے لئے سب انتظامات مکمل کر لئے۔
خواتین کو بیرون ملک اسمگل کرنے کی کوشش ناکام اس وقت ہوئی جب ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی نے ایک مخبر کی اطلاع ملنے پر دو ہوٹلوں پر چھاپہ مارا۔یہاں ہیومن ٹریفکرز کے گروہ نے بیرون ملک بھیجنے کے لئے ان کے گھروں سے لائی گئی 33 عورتوں کو ٹھہرایا ہوا تھا۔ عورتوں کی تعداد بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ مخبر کی نظر میں آ گیا اور ایف آئی اے کراچی سرکل تک پہنچ گیا۔
ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی نے پاسپورٹ آفس صدر کراچی کے قریب دو ہوٹلوں پر چھاپہ مارا تو وہاں پنجاب کے مختلف اضلاع سے بیرون ملک لے جانے کے لئے لائی گئی 33 خواتین کو رکھا گیا تھا۔ ایف آئی اے نے ان تمام 33 عورتوں کو گرفتار کر لیا۔
کارروائی کے دوران ان کو ہینڈل کرنے پر مامور ہیومن سمگلرز اور ایجنٹوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔
ایف آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے 29 پاسپورٹس اور دیگر متعلقہ مواد برآمد ہوا۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ان تمام عورتوں کو وزٹ ویزا کے بہانے متحدہ عرب امارات بھجوایا جا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیئے: علی لاریجانی کا ہاتھ سے لکھا بیان ایرانی میڈیا پر آ گیا
ان عورتوں کو خواتین کو جسم فروشی کے لئے پنجاب کے مختلف شہروں سے اکٹھا کیا گیا تھا۔ اس سارے عمل کے دوران "ہیومن ٹریفکنگ" کو جر سے اکھاڑ دینے کے لئے سرگرم ایف آئی اے، پنجاب پولیس، کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے ہزاروں اہلکار بے خبر رہے۔ پاکستان سے اتنی بڑی تعداد میں عورتوں کو جسم فروشی کے لئے بیرون ملک بھیجنے کی کوشش پہلی مرتبہ سامنے ٓائی ہے۔
اب ایف آئی اے کراچی نے کچھ ملمزوں کو گترفتار کیا ہے جو ان عورتوں کے ساتھ موجود تھے۔ ضیاء الحق، امتیاز علی، فرمان علی اور سکینہ کے خلاف پریوینشن آف ٹریفکنگ ان پرسنز ایکٹ 2018 کے تحت تین مقدمات درج کیے گئے ہیں۔