سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ؛ کم از کم اجرت 43ہزار مقرر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) وزیراعلیٰ سندھ نے نئے مالی سال کا 3.562 کھرب روپے کا بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کردیا،بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ کا عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کا عزم ہے ،سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے اور ایڈہاک رلیف الاؤنس 2022ء اور 2025ء ضم کرنےکا اعلان ہے ۔
صوبے میں کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ۔ سید مراد علی شاہ کا کراچی میں 'سندھ انٹرنیشنل فائننشل سینٹر' قائم کرنے کا اعلان ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق فائننشل سینٹر انفراسٹرکچر فنانس، اسلامک فنانس اور کلائمیٹ فنانس کا پلیٹ فارم ہوگا،وزیراعلیٰ سندھ کا کیٹی بندر کو عالمی بحری، لاجسٹکس، انڈسٹریل اور توانائی مرکز بنائے کا عزم ہے ۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پورٹ قاسم کی بنیاد رکھی، شہید بینظیر بھٹو کے وژن کے تحت اب چیئرمین بلاول بھٹو کیٹی بندر کی نئی معاشی تقدیر رقم کرے گا، پورٹ قاسم کے بعد کیٹی بندر سندھ کی معاشی ترقی کا اگلا عظیم سنگِ میل بننے جا رہا ہے، کیٹی بندر کے ذریعے پاکستان عالمی تجارتی راستوں سے مزید مضبوط انداز میں منسلک ہوگا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کیٹی بندر منصوبہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون اور تھر کے کوئلہ وسائل سے منسلک ہوگا، ہم کیٹی بندر کو پاکستان کا نیا معاشی اور بحری گیٹ وے بنائیں گے،پیپلز پارٹی کے وژن کے تحت کراچی کو عالمی سرمایہ کاری کے مرکز بنا رہے ہیں۔شہر کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر قائم کیا جا رہا ہے،ڈیجیٹل سندھ وژن کے تحت گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر اور اے آئی اکانومی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے، بلاول بھٹو کے وژن کے مطابق سندھ کو قابلِ تجدید توانائی کا مرکز بنایا جا رہا ہے،پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سولر پروگرام شروع کیا جا رہا ہے،سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر اسلامی اور کلائمیٹ فنانس کا مرکز ہوگا، سید مراد علی شاہ کا عالمی سرمایہ کاری کے لیے 'سندھ گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر انیشیٹو' کے آغازکا اعلان ہے ۔ عالمی معیار کے ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری لائی جائے گی۔
18 ارب روپے کی لاگت سے 2 لاکھ 75 ہزار مفت سولر ہوم سسٹمز تقسیم کیے جائیں گے۔ غریب گھرانوں کو مفت سولر سسٹمز فراہم کر چکے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ کا متوسط طبقے کے لیے رعایتی سولر فنانسنگ پروگرام متعارف کرانے کا اعلان ہے ۔
کسان دوست وژن کے تحت زرعی کلیکٹوز کے ذریعے چھوٹے ہاریوں کو نئی معاشی طاقت دی جا رہی ہے۔ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام سے کچرے کو معاشی وسائل میں تبدیل کیا جائے گا،سندھ میں سرمایہ کاری، صنعت، تجارت اور روزگار کے نئے دروازے کھولے جا رہے ہیں۔ہم سندھ کو جنوبی ایشیا کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت بنانے کی بنیاد رکھ رہے ہیں،پیپلز پارٹی کے ترقیاتی وژن کے تحت تجارت، ٹیکنالوجی، فنانس اور توانائی کا علاقائی مرکز بنایا جا رہا ہے،سندھ حکومت کا اگلا مرحلہ فلاح سے خوشحالی اور خوشحالی سے معاشی قیادت کی جانب سفر ہے، سندھ حکومت کا کچرے سے ایندھن اور تجارتی مصنوعات بنانے کا ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام متعارف ہے ۔ ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام سے کاربن کریڈٹس پیدا ہوں گے اور ماحولیاتی آلودگی کم ہوگی، سندھ حکومت نے چھوٹے کسانوں کیلئے خصوصی قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے ۔ چھوٹے آبادگاروں کے لیے زرعی اجتماعی اداروں کے قیام کی قانون سازی ہوگی،
ہاریوں کو مشینری، مالیات، انشورنس اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی دی جائے گی، موسمیاتی چیلنجز کے باوجود کسان ملک کی غذائی ضروریات پوری کر رہے ہیں،ہمارے محنت کش معیشت کا پہیہ رواں رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، معاشی مشکلات کے باوجود سرمایہ کار اور کاروباری طبقہ ترقی کے سفر میں شریک ہے، گزشتہ سال میں ریکارڈ 900 ارب روپے سے زائد ترقیاتی سرگرمیوں پر خرچ کیے، شاہراہِ بھٹو سندھ کی تاریخ کا سب سے بڑا شہری انفراسٹرکچر منصوبہ ہے، کراچی کی ترقی کے لیے جدید انفراسٹرکچر اور مؤثر ٹرانسپورٹ نظام ناگزیر ہے، 60.7 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی شاہراہِ بھٹو عوام کے لیے بڑی سہولت ہے، 39 کلومیٹر طویل جدید کوریڈور قیوم آباد سے ایم نائن موٹروے سے منسلک کرتا ہے، شاہراہِ بھٹو کراچی کے ٹریفک نظام میں انقلابی تبدیلی کا باعث بن رہی ہے،کراچی کا پہلا بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ نے شاہراہِ بھٹو کو جدید مالیاتی حکمتِ عملی اور مؤثر منصوبہ بندی کی کامیاب مثال قرار دیا ۔
شاہراہِ بھٹو کی تعمیر سے سفر کا دورانیہ کم ہو کر تقریباً 25 منٹ رہ گیا، شاہراہِ بھٹو منصوبے سے شہریوں کے وقت اور ایندھن کی بچت میں نمایاں بہتری آئی ہے، شاہراہِ بھٹو روزانہ تقریباً 25 ہزار گاڑیوں کو سفری سہولت فراہم کر رہی ہے، شاہراہِ بھٹو کراچی میں تیز، محفوظ اور مؤثر آمد و رفت کے نئے دور کا آغاز ہے، بڑی شہری شاہراہوں کو جدید طرز پر استوار کرنا سندھ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے،شاہراہِ بھٹو منصوبہ کراچی کی معاشی سرگرمیوں اور رابطوں کے فروغ میں اہم سنگِ میل ہے،شاہراہِ بھٹو منصوبے کی تکمیل سے صنعتی، تجارتی اور رہائشی علاقوں کے درمیان رابطے مزید مضبوط ہونگے،شاہراہِ بھٹو کراچی کے شہری انفراسٹرکچر میں تاریخی اضافہ ثابت ہوگا، سال 2022 کے سیلاب متاثرین کے لیے 'سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام' کے تحت 10 لاکھ گھر مکمل کئے گئے، عالمی تعاون سے 1.675 ارب ڈالر کی لاگت سے مزید 17 لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کے فنڈز حاصل کر لیے گئے،
سیلاب متاثرین مکانات کے منصوبے میں لاکھوں خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دے کر بااختیار بنایا گیا،صحت کے شعبے میں این آئی سی وی ڈی، ایس آئی سی وی ڈی، ایس آئی یو ٹی اور جے پی ایم سی کی خدمات میں توسیع ہے ۔ 1123 ٹیلی طبیب سروس اور 1122 ایمبولینس نیٹ ورک مزید مضبوط بنایا گیا، اساتذہ اور طبی عملہ خلوص اور لگن سے قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔محکمہ تعلیم کے تحت 1300 سے زائد اسکولوں کی عمارات تعمیر اور اساتذہ کی بھرتیاں کی گئیں، نوجوانوں کی امیدیں اور امنگیں ہمیں بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے متحرک رکھتی ہیں،
سندھ کا بجٹ 4 اصولوں آئینی حقوق، مالیاتی پائیداری، قومی استحکام اور عوامی فلاح پر مبنی ہے، وفاق کے ساتھ تعاون کے تحت ترقیاتی پورٹ فولیو 575 ارب سے کم کرکے 400 ارب روپے کرنا پڑا، وفاق کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کے حصے کا تحفظ یقینی بنایا ہے، وزیراعلیٰ سندھ کا تعلیم، زراعت، انشورنس اور روزگار کے شعبوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان ہے ۔ تعلیمی معاونتی خدمات پر سیلز ٹیکس کم کرکے 5 فیصد کر دیا گیا، سوشل پروٹیکشن پیکیج کے لیے 13.2 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، سوشل پروٹیکشن میں کچن گارڈن، بینظیر ہاری کارڈ اور بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام شامل ہیں، سوشل پروٹیکشن پیکیج کے تحت بیواؤں اور یتیموں کے لیے بھی امدادی اسکیمیں جاری رہیں گی،پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سے منسلک بیوٹی سیلونز اور اوورسیز ایمپلائمنٹ ریکروٹنگ ایجنسیوں کے لیے رعایتی ٹیکس برقرار ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا انشورنس ایجنٹس اور بروکرز پر لاگو ٹیکسز میں کمی کا اعلان ہے ۔ زرعی سپر ٹیکس کی استثنیٰ کی حد 150 ملین سے بڑھا کر 500 ملین روپے کر دی گئی،زرعی سپر ٹیکس کی شرح کو بھی 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دیا گیا،نئے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا حجم 400 ارب روپے مقرر ہے،
لوکل گورنمنٹ اور میونسپل انفراسٹرکچر کے لیے سب سے زیادہ 121.6 ارب روپے مختص کیا گیا ہے، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے 40.9 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے منصوبوں کے لیے 39.5 ارب روپے مختص کیا گیا ہے، آبپاشی منصوبوں کیلئے 30.9 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے، تعلیم کے شعبے کے لئے 25.9 ارب روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی گئی ہے، صحت کے شعبے کے لیے 17.4 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مقرر کیا گیا ہے، زراعت اور لائیوسٹاک کے ترقیاتی کاموں کے لیے 6.3 ارب روپے مختص کیا گیا ہے،شہر کراچی کی ترقی کے لیے میگا ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، گریٹر کراچی سیوریج پلان (ایس تھری) پر 32 ارب روپے سے زائد لاگت سے کام جاری ہےلیاری ٹرانسفارمیشن پیکیج کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،کراچی ٹریفک کوریڈور امپروومنٹ پروگرام کے لیے 4.17 ارب روپے کی فنڈنگ کی ہے،کراچی کے اندرونی سڑکوں کی بحالی کے منصوبے پر 5.53 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، وزیراعلیٰ سندھ
کراچی سینٹرل کی پانچ ٹاؤن میونسپل کمیٹیوں میں سڑکوں کی بہتری کے لیے 3.18 ارب روپے مختص کیے ہیں،کے ایم سی فائر بریگیڈ سروسز کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن کے لیے 7.69 ارب روپے مختص کیے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ کا کراچی میں عوامی ٹرانسپورٹ نظام کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ کراچی کےلئے 4.8 ارب روپے کی لاگت سے 50 جدید ڈبل ڈیکر بسوں کی خریداری کی منظوری دی گئی ہے۔25 ڈبل ڈیکر بسیں آئندہ تین ماہ میں شہر کراچی کی سڑکوں پر آ جائیں گی،ڈبل ڈیکر بسیں روزانہ 30 سے 35 ہزار مسافروں کو سفری سہولت فراہم کریں گی، کراچی میں پنک بس سروس کی توسیع کرینگے 28 بسیں مختلف روٹس پر چل رہی ہیں،گرین لائن کوریڈور پر خواتین کے لیے خصوصی پنک بس سروس جاری جاری ہے،کراچی میں الیکٹرک بسوں کی تعداد میں اضافہ گیا ہے، مزید 100 ای وی بسیں شامل کی جائیں گی، گرین لائن، اورنج لائن اور پیپلز بس سروس میں آٹومیٹڈ فیئر کلیکشن سسٹم نافذ کیا گیا ہے۔کراچی میں سندھ سیف سٹیز پروگرام کے تحت 1325 اسمارٹ کیمرے نصب کیے گئے، چہرہ شناس اور نمبر پلیٹ شناختی ٹیکنالوجی سے نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنا گیا ہے،کراچی میں گاڑیوں کی چوری اور چھیننے کے واقعات میں 67 فیصد کمی ہوئی ہے، اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں 54 فیصد کمی ریکارڈکی گئی ہے،جرائم کی نشاندہی اور سراغ رسانی کی شرح 81 فیصد تک پہنچ گئی،کراچی کا معاشی مزید مستقبل شاندار بنایا جائے گا، سید مراد علی شاہ کا کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (SIFC) کے قیام کا اعلان ہے ۔ کراچی کو خطے کا مالیاتی، سرمایہ کاری اور فِن ٹیک مرکز بنانے کا منصوبہ ہے، ایس آئی ایف سی کے لیے کراچی میں تین ممکنہ مقامات کی نشاندہی ہے۔کراچی کو عالمی سرمایہ کاری اور اسلامی فنانس کے علاقائی مرکز میں تبدیل کرنے کا ہدف ہے ۔ کراچی میں ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے تحت سندھ کو پاکستان کا پہلا جامع انرجی مرکز بنائیں گے، سندھ توانائی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انرجی برآمد کرنے والا صوبہ بنے گا، سندھ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، تھر کے کوئلے سے لے کر شمسی اور ہوا کی ذریعے گرین انرجی میں انقلابی اقدامات جاری ہیں، سندھ کی توانائی پالیسی قومی توانائی سلامتی کو نئی مضبوطی فراہم کر رہی ہے، سندھ کے کوئلے نے پاکستان کو روشنی دی، اب گرین انرجی ملک کا مستقبل روشن کرے گی،
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کراچی اور حیدرآباد کے اطراف گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر منصوبے پر کام جاری ہے، تھر، جھمپیر، دھابیجی، ٹھٹو اور کراچی مل کر سندھ کا نیا انرجی کوریڈور تشکیل دے رہے ہیں،قابلِ تجدید توانائی سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز اور ٹیکنالوجی زونز قائم کیے جائیں گے، شمسی توانائی، ونڈ کوریڈور اور گرین انرجی پارکس سندھ کی نئی معاشی طاقت بنیں گے، سائٹ کراچی، کورنگی انڈسٹریل ایریا اور پورٹ قاسم انڈسٹریل ایریا کو گرین انرجی سے منسلک کرنے کا منصوبہ ہے، توانائی میں خود کفالت سندھ کی معاشی خودمختاری کی بنیاد بنے گی،سندھ بجٹ شہریوں کے تحفظ، انسانی ترقی اور روشن مستقبل کی تعمیر کا عکاس ہے،ہر بچے کو تعلیم، ہر شہری کو صحت اور ہر نوجوان کو مواقع میسر کرنا پیپلز پارٹی کا وژن ہے،سندھ حکومت کے بجٹ سے ہر ضلع کو خوشحالی اور ترقی کے ثمرات حاصل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : اپنا گھر خریدنے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی