محرم الحرام میں فول پروف سیکیورٹی، پنجاب بھر کی امام بارگاہیں ڈیجیٹل سیکیورٹی سے لیس

Jun 15, 2026 | 18:23:PM
 محرم الحرام میں فول پروف سیکیورٹی، پنجاب بھر کی امام بارگاہیں ڈیجیٹل سیکیورٹی سے لیس
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(راو دلشاد) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت محرم الحرام کے انتظامات، سیکیورٹی اور دیگر امور کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اور غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبہ بھر میں عزادارانِ حسینؑ کے لیے فول پروف سیکیورٹی اور بہترین سہولیات کی فراہمی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبے بھر کی 4,700 امام بارگاہوں میں کیو آر کوڈڈ پینک بٹن سسٹم نصب کیا گیا ہے۔ اس جدید نظام کے تحت منتظمین مجالس کیو آر کوڈ اسکین کرتے ہی متعلقہ سیکیورٹی اور انتظامی اداروں کو فوری الرٹ موصول ہوگا اور امدادی کارروائی کا آغاز ہو جائے گا۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے منتظمین مجالس سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر کیو آر کوڈ سسٹم ڈاؤن لوڈ کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری رسپانس یقینی بنایا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ نے محرم الحرام کے دوران صوبہ بھر میں تین سطحی (Three-Tier) سیکیورٹی پلان نافذ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ڈرونز کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی جبکہ لاؤڈ اسپیکر کے غیر قانونی استعمال کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کومبنگ آپریشنز، انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں اور رئیل ٹائم انٹیلی جنس شیئرنگ کو ہر صورت یقینی بنانے کا حکم دیا۔

اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ محرم الحرام کے دوران پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 47 ہزار 280 مجالس اور جلوس منعقد ہوں گے، جن میں 37 ہزار 868 مجالس اور 9 ہزار 412 جلوس شامل ہیں۔ ان کی سیکیورٹی کے لیے ایک لاکھ 25 ہزار 641 پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جبکہ پاک فوج کی 61 اور رینجرز کی 76 کمپنیاں بھی طلب کر لی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 30 ہزار 445 تربیت یافتہ رضاکار سیکیورٹی اداروں کی معاونت کریں گے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی تمام جلوسوں اور مجالس کی لائیو ڈیجیٹل مانیٹرنگ کرے گی۔ اس مقصد کے لیے صوبہ بھر میں 5 ہزار 623 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے فعال ہیں، جبکہ 1040 باڈی کیمز، جدید ڈرونز اور حساس مقامات پر ایک ہزار سے زائد 4G ایونٹ کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں۔ سیف سٹیز کنٹرول رومز میں 1400 سے زائد افسران چوبیس گھنٹے نگرانی کے فرائض سرانجام دیں گے۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ موبائل سروس کی ممکنہ معطلی کی صورت میں 11 اضلاع کے ہیڈ کوارٹرز میں ایل ٹی ای (LTE) کوریج فراہم کی جائے گی تاکہ رابطوں کا نظام برقرار رہے۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ہدایت کی کہ جلوسوں اور مجالس کے راستوں پر ٹھنڈے اور میٹھے پانی، سبیلوں، خوشبو اور صفائی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے عید الاضحیٰ کے دوران صفائی کے شاندار انتظامات پر ضلعی انتظامیہ کو خراج تحسین بھی پیش کیا اور ستھرا پنجاب اتھارٹی کو جلوسوں کے راستوں پر خوشبو کے استعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔

اجلاس میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے بھر میں اب تک 43 ٹارگٹڈ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے جا چکے ہیں جبکہ شرپسندی پھیلانے والے 359 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی کے بعد سائبر رسپانس ٹیمیں متحرک کر دی گئی ہیں۔

حکام نے واضح کیا کہ محرم الحرام کے دوران صرف مروجہ اور لائسنس یافتہ جلوسوں کی اجازت ہوگی، کسی نئے جلوس یا روٹ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جلوسوں کے مقررہ اوقات اور راستوں کی پابندی لازمی ہوگی اور خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔

اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ نفرت انگیز تقاریر، وال چاکنگ اور اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ اشتعال انگیز سرگرمیوں کے تدارک کے لیے 794 افراد کی زبان بندی جبکہ 1418 افراد کے داخلے پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ صوبہ بھر میں امن کمیٹیوں کے تحت نچلی سطح پر 1220 کوآرڈینیشن میٹنگز بھی مکمل کی جا چکی ہیں۔

سیکیورٹی انتظامات کے تحت جلوسوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز بھی نصب کیے جائیں گے تاکہ عزاداران کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں :یکم محرم الحرام کو عام تعطیل کافیصلہ