ٹک ٹاکر ثناء یوسف کیس؛ملزم کی درخواست پرسماعت مکمل، فیصلہ محفوظ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(احتشام کیانی)اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس میں ملزم عمر حیات کی جانب سے کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت مکمل ہو گئی جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
چیف جسٹس کے استفسار پر وکیل نے جواب دیاکہ عدالت میں رپورٹ جمع کروا دی ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ رپورٹ کیا کہتی ہے؟ماڈل کورٹ کے پاس کیس ہے وہ تو جلدی ہی کرے گی۔
وکیل ملزم عمر حیات نے کہا کورٹ کا ہمارے ساتھ کنڈکٹ ٹھیک نہیں، ہم نے کبھی التواء نہیں مانگا پھر بھی سرکاری وکیل مقرر کر کے جرح کر لی گئی،ٹرائل کورٹ کا کنڈکٹ ہمارے ساتھ درست نہیں،ایسے الفاظ بھی استعمال کیے گئے جو عدالت میں وکیل سے متعلق نہیں کہے جا سکتے۔
ملزم کے وکیل نے استدعاکی کہ پہلے ہونے والی جرح کو ختم کر کے ہمیں دوبارہ جرح کا موقع دیا جائے، ہمیں اُس عدالت پر اعتماد نہیں، کیس کسی بھی دوسری کورٹ میں منتقل کیا جائے۔
وکیل مدعی کے مطابق دس ماہ ہو چکے، بیان قلمبند ہونے کے بعد چھ ماہ میں صرف دو گواہوں پر جرح کی گئی، ٹرائل کورٹ ماڈل کورٹ ہے اور اس نے اِنہیں بہت سہولت دی۔
چیف جسٹس نے ملزم کے وکیل سے مکالمہ کیاکہ آپ کا ٹرائل کورٹ کے ساتھ جو رویہ ہے ایسے کورٹ آپ کے ساتھ کیسے چلے گی؟ ،جرح کرنے کا بیان دے کر نہیں کریں گے پھر کہیں گے وقت دیا جائے تو کیا ہو گا؟وکیل ملزم نے کہاہم ٹرائل کورٹ کے رویے اور ہماری عدم موجودگی میں کارروائی بڑھانے کے خلاف آئے ہیں، ہم نے ٹرائل کورٹ کو بھی درخواست دی تھی جو مسترد کر دی گئی،ٹرائل کورٹ نے موقع پر سٹیٹ کونسل مقرر کر کے کہا ایک گھنٹہ میں جرح کریں، وکیل بیمار تھے ایک موقع تو دیا جانا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیں:بانی پی ٹی آئی کی قانونی دستاویزات؛ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو دوبارہ خط لکھ دیاگیا
وکیل مدعی مقدمہ نے کہاانہیں بہت مواقع ملے لیکن کئی مرتبہ التواء مانگا گیا، ٹرائل جج پر بھی اعتراض کیا گیا۔
عدالت نے وکیل ملزم سے مکالمہ کیاکہ آپ اِدھر آجاتے ہیں اور اُدھر نہیں جاتے، ہائیکورٹ آئیں تو ٹرائل کورٹ کو بتا کر آنا چاہیے،ٹرائل کورٹ کا دوسری پارٹی سے رابطہ یا تعلق بھی نہیں ہے، وہ ماڈل کورٹ ہے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔