پاکستان کی    عالمی لانز کنیکٹیوٹی میں ایک سال میں مزید 11 فیصد تنزلی 

May 14, 2026 | 19:22:PM
 پاکستان کی    عالمی لانز کنیکٹیوٹی میں ایک سال میں مزید 11 فیصد تنزلی 
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اشرف خان)  اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سمندری فریٹ پر رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ  پاکستان سالانہ 6 ارب ڈالر سمندری فریٹ پر خرچ کرتا ہے ۔ یہ سارا پیسہ غیر ملکی کمپنیوں کو جاتا ہے۔

او آئی سی سی آئی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ  قومی بحری بیڑا 1982 میں 45 جہازوں سے گھٹ کر صرف 12 رہ گیا ہے۔  پاکستان کے پاس ایک بھی کنٹینر شپ نہیں ہے۔ او آئی سی سی آئی کی اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ  پاکستان عالمی لائنر کنیکٹیویٹی میں 35ویں نمبر پر ہے۔  عالمی لانز کنیکٹیوٹی میں ایک سال میں مزید 11 فیصد تنزلی ریکارڈ کی گئی۔ 

او آئی سی سی آئی نے بتایا کہ پاکستان  کی بحری آمد و رفت میں تنزلی کے رجحان کے  برعکس   ویتنام نےدنیا میں چھٹا مقام حاصل کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: بارش برسانےوالے سسٹم کی انٹری، گرج چمک کیساتھ بارش اورژالہ باری کی پیش گوئی  

او آئی سی سی آئی نے سمندری فریٹ میں کمی کا حل  یہ تجویز کیا کہ شپنگ قوانین کو  جدید بنایا جائے ۔  پی این ایس سی کو صرف بلک کارگو تک ہی محدود نہ رکھا جائے۔ پرائیویٹ کمپنیوں کے لئے پاکستانی فلیگ کے تحت آپریشن کی راہ میں رکاوٹیں ختم کی جائیں ۔

 او آئی سی سی آئی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ  اصلاحات نہ ہوئیں تو ہر سال 6 ارب ڈالر کا فریٹ بل خاموشی سے بڑھتا رہے گا اور یہ رقم غیر ملکی کمپنیوں کو جاتی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں عید الاضحیٰ کی چھٹیاں کب سے شروع ہوں گی؟ تاریخ سامنے آگئی