پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل قائم,نرسنگ کی تعلیم اور رجسٹریشن و دیگر عوامل کی نگرانی کرے گی

Jan 13, 2026 | 20:12:PM
پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل قائم,نرسنگ کی تعلیم اور رجسٹریشن و دیگر عوامل کی نگرانی کرے گی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(بابر شہزاد تُرک)وزیراعظم کی منظوری سے پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل قائم کر دی گئی، کونسل نرسنگ کی تعلیم اور رجسٹریشن و دیگر عوامل کی نگرانی کرے گی،وزارت صحت کے مطابق اقدام کا مقصد صوبوں اور وفاق کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر یکساں قوانین نافذ کرنا اور ریگولیٹر کو واضح قانونی اختیارات دینا ہے۔

 کونسل کے قیام کے حوالے سے 24 نیوز کو دستیاب دستاویزات اور وفاقی وزارت قومی صحت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی منظوری سے وزارتِ قومی صحت نے پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل آرڈیننس 2025 کے تحت ایک مؤثر و طاقتور نئی پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کو باضابطہ طور پر قائم کر کے فعال کر دیا ہے۔

 کونسل اب ملک بھر میں نرسنگ اور دائیوں کی تعلیم، رجسٹریشن اور لائسنسنگ کے تمام معاملات کی نگرانی اور ضابطہ بندی کرے گی۔

24 نیوز کو موصول وفاقی وزارت قومی صحت کے نوٹیفکیشن کے مطابق وزارتِ صحت نے آرڈیننس کی شق 4 کے تحت کونسل کے ارکان کے ناموں کی منظوری اور تقرری کی ہے جس کے بعد یہ نیا ریگولیٹری ادارہ عملی طور پر فعال ہو گیا ہے، حکام کے مطابق یہ کئی برس بعد پہلا موقع ہے کہ نرسنگ اور مڈوائفری کے شعبے کے لیے ایک مکمل طور پر قانونی اور فعال قومی کونسل قائم ہوئی ہے، نیا آرڈیننس اس مقصد کے تحت نافذ کیا گیا کہ پرانے اور بکھرے ہوئے ریگولیٹری نظام کی جگہ ایک مضبوط قومی ادارہ قائم کیا جائے جو نرسنگ اور مڈوائفری تعلیمی اداروں کی منظوری، نرسوں اور دائیوں کی رجسٹریشن اور پیشہ ورانہ معیار کی نگرانی کر سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صوبوں اور وفاق کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر یکساں قوانین نافذ کرنا اور ریگولیٹر کو واضح قانونی اختیارات دینا ہے، نوٹیفائی کی گئی کونسل میں وفاقی اور صوبائی سطح پر اعلیٰ ترین حکام شامل ہیں، کونسل کے ایکس آفیشیو ارکان میں وزارتِ قومی صحت کے اسپیشل سیکریٹری، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل کوالٹی ایشورنس، آرمڈ فورسز نرسنگ سروسز کے چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ اور پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ڈائریکٹر جنرل نرسنگ شامل ہیں۔

 اس انتظام کے تحت ملک بھر میں نرسنگ اور مڈوائفری تعلیم اور ریگولیشن براہ راست اعلیٰ ترین سرکاری اداروں کی نگرانی میں آ گئی ہے۔

 علاوہ ازیں، وزیراعظم نے پیشہ ورانہ نمائندگی کے لیے نامزد ارکان کی بھی منظوری دی ہے جن میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے نرسنگ کالجز کے پرنسپلز، بلوچستان سے ایک سینئر مڈوائف اور کراچی سے ایک فلاحی نمائندہ شامل ہیں تاکہ انتظامی اور پیشہ ورانہ توازن برقرار رکھا جا سکے، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کونسل کا قیام اور آپریشنل کئے جانے کا عمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے نرسنگ کے شعبے پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔

گزشتہ برسوں میں متعدد بار جعلی اور غیر معیاری نرسنگ کالجز، انسپکشنز میں ہیرا پھیری اور رجسٹریشن و لائسنس کی غیر قانونی فروخت کے الزامات سامنے آئے ہیں جس کے باعث ہزاروں طلبہ کی ڈگریوں اور مستقبل پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے اور ہسپتالوں میں نرسنگ خدمات کے معیار پر بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔

 صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ نئی کونسل کو اب قانونی طور پر یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ غیر قانونی اداروں کو بند کرے، جعلی رجسٹریشن منسوخ کرے اور تعلیمی معیار کو سختی سے نافذ کرے، تاہم نرسنگ تنظیمیں اور طلبہ کہتے ہیں کہ اصل امتحان یہی ہو گا کہ آیا ان اختیارات کو تیزی اور شفافیت کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے یا نہیں کیا جاتا۔

یہ بھی پڑھیں :  پاکستان اور مراکش کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط