صدر ٹرمپ کا وال سٹریٹ جرنل کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ مسترد

Apr 13, 2026 | 23:01:PM
صدر ٹرمپ کا وال سٹریٹ جرنل کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ مسترد
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وال سٹریٹ جرنل کے خلاف دائر ہتکِ عزت کا مقدمہ ایک امریکی جج نے پیر کے روز مسترد کر دیا، تاہم عدالت نے ٹرمپ کو دوبارہ کیس دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

میامی میں تعینات امریکی ڈسٹرکٹ جج ڈیرن گیلز نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹرمپ اس قانونی معیار پر پورا نہیں اتر سکے جسے ’حقیقی بدنیتی‘ کہا جاتا ہے، جو کسی عوامی شخصیت کے لیے ہتکِ عزت کے مقدمے میں ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔

اس معیار کے تحت یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ نہ صرف بیان غلط تھا بلکہ اسے شائع کرنے والے کو اس کے غلط ہونے کا علم تھا یا ہونا چاہیے تھا۔ 


جج نے لکھا کہ یہ شکایت اس معیار کے قریب بھی نہیں پہنچتی، بلکہ اس کے برعکس ہے۔

 عدالت کے مطابق اخبار کے رپورٹرز نے خبر شائع کرنے سے پہلے ٹرمپ سے مؤقف لینے کی کوشش کی اور ان کی تردید کو بھی شائع کیا، جس سے قارئین کو خود نتیجہ اخذ کرنے کا موقع ملا۔

اس بات نے ٹرمپ کے اس دعوے کو کمزور کر دیا کہ اخبار نے بدنیتی کے ساتھ رپورٹنگ کی۔

یہ مقدمہ اس خبر کے بعد دائر کیا گیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ کا نام 2003 میں بدنام زمانہ سرمایہ کار اور جنسی جرائم میں ملوث جیفری ایپسٹین کے لیے ایک سالگرہ کے پیغام میں شامل تھا۔

صدر ٹرمپ نے اس پیغام کو جعلی قرار دیتے ہوئے 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ وال اسٹریٹ جرنل کی مالک کمپنی ڈاؤ جونز نے اپنی رپورٹ کی درستگی کا دفاع کیا ہے۔

جج نے ٹرمپ کو 27 اپریل تک ترمیم شدہ درخواست دوبارہ جمع کرانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کیس پر نہ تو ٹرمپ کے وکلا اور نہ ہی وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا۔

یہ مقدمہ ان کئی قانونی کارروائیوں میں سے ایک ہے جو صدر ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران مختلف میڈیا اداروں کے خلاف دائر کیں، جنہیں وہ غیر منصفانہ یا غلط رپورٹنگ قرار دیتے رہے ہیں۔

اس صورتحال پر ڈیموکریٹس اور آزادیِ صحافت کے حامیوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح کے مقدمات تنقیدی صحافت کو دبانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اب بھی دیر نہیں ہوئی،فری سولر پینل حاصل کریں، حکومت نے بڑی خوشخبری سنا دی

دیگر کیٹیگریز: دنیا
ٹیگز: