متبادل توانائی کے شعبہ کو نظر انداز کیا گیا، چھوٹی صنعت کو کچھ نہیں ملا، ایف پی سی سی آئی کا ردعمل

Jun 12, 2026 | 20:56:PM
متبادل توانائی کے شعبہ کو نظر انداز کیا گیا، چھوٹی صنعت کو کچھ نہیں ملا، ایف پی سی سی آئی کا ردعمل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اشرف خان) فیڈریشن آف پاکستان چیمبترز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے رہنماؤں نے وزیر خزانہ اورنگ زیب کی پیش کردہ بجٹتجاویز کے سرسری جائزہ کے بعد اپنا ردعمل دے دیا ہے جس میں متبادل توانائی کے شعبہ کو مراعات نہ دینے پر تنقید کی گئی ہے اور چھوٹی صنعتوں کو کچھ نہ دیئے جانے کی شکایت کی گئی ہے۔

وفاقی بجٹ 2026/27 پیش  ہونے کے بعد  ایف پی سی سی آئی کی قیادت بجٹ پر اپنی رائے دے رہی ہے ۔ 

ایف پی سی سی آئی  کے صدر عاطف اکرام شیخ کا  اسلام آباد سے جو ردعمل سامنے آیا ہے اس میں انہوں نے کہا پاکستان نے معاشی مشکلات کے باوجود بہتری دیکھائی۔

عاطف اکرام  نے کہا، معاشی نمو ہدف سے کم رہی ۔ اس وقت صنعتی مسابقت بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے ۔ کاروباری سرگرمیاں پچھلے 3 برسوں میں کم ہوئی ہیں۔

کاروباری برادری نے اس بجٹ سے توقع  رکھی ہوئی تھی کہ معاشی ترقی کو فوکس کیاجائے گا ۔ ایف بی آر کا 15 ہزار 200 ارب روپے کلیکشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

 فیڈریشن آف پاکستان چیمبترز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئیر رہنما  ثاقب فیاض مگوں نے وفاقی حکومت کے بجٹ پر اپنے ردعمل میں کہا کہ متبادل توانائی کے شعبہ کو مراعات دینے کے مطالبہ کو نظر انداز کیا گیا، ایکسپورٹرز پر ٹیکس کے معاملہ کو بھی نطر انداز کیا گیا۔ انہوں نے بجٹ میں مثبت اعلانات کی تعریف بھی کی۔

 ایف پی سی سی آئی سنئیر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں کا بجٹ پر درعمل  سامنے آ گیا ہے۔ ثاقب فیاض مگوں نے کہا،   ٹیکس ہدف 15 ہزار 200 ارب روپے رکھا گیا ہے، یہ حقیقت پر مبنی ایف بی آر کا ہدف نہیں ہے ۔

وزیر اعظم نے ہاؤسنگ سکیم کے لئے 78 ارب روپے مختص کئے ہیں ۔ اس فیصلے سے غریب ادمی اپنا گھر لے سکے گا ۔

ترقیاتی فنڈز نئے مالی سال میں ایک ہزار ارب روپے رکھا گیا ہے جو اچھا اقدام ہے 

50کروڑ سے زائد آمدن پر بھی سپر ٹیکس ختم کریں

ثاقب فیاض مگوں نے کہا، سپر ٹیکس کو 50 کروڑ روپے آمدن والوں پر  ختم کرنا اہم قدم ہے ۔50 کروڑ سے زائد آمدنی پر بھی سپر ٹیکس ختم کیا جائے ۔کم سے کم فکسڈ ٹیکس ایکسپورٹر سے ختم کرنے کا تھا ۔ایکسپورٹ پر یہ مطالبہ نہیں مانا گیا ۔ ایکسپورٹر کا مطالبہ اس کو فکسڈ ٹیکس میں لانے کا مطالبہ تھا ۔

جائیداد پر پر ٹیکس کی شرح کم کی گئی جو اچھا اقدام ہے ۔

ایف پی سی سی آئی کے لیڈر نے کہا،  غیر رجسٹرڈ سے خریداری پر اضافی ٹیکس عائد کرنا درست فیصلہ نہیں ہے۔
 ثاقب فیاض مگوں  نے کہا،  فارن ایسیٹ پر سی ٹی وی کا ختم کرنا اچھا قدم ہے ۔

متبادل توانائی کے شعبہ کو نظر انداز کیا گیا

ثاقب فیاض مگوں نے کہا، ہم کو امید تھی کہ متبادل توانائی کے شعبے کو مراعات دی جائیں گی۔ ان مراعات سے پاکستان مین متبادل توانائی کی گروتھ بڑھتی۔  متبادل توانائی کے شعبہ کیلئے ہم نے مرعات کا مطالبہ کیا تھا ۔  بجٹ تجاویز میں اس کو بھی نظر انداز کیا گیا ۔

ثاقب فیاض مگوں نے کہا،  بجٹ تجاویز میں مختلف جرمانوں میں اضافہ کردیا گیا ہے ۔ اس سے مزید بے چینی بڑھے گی اور سرکاری اہلکاروں کی طرف سے ہراساں کیا جائے گا ۔

بیرون ملک سے پیسہ بھیجنے والوں کیلئے کچھ نہیں!

انہوں نے کہا،یرون ملک پاکستانیوں نے  نے 42 ارب ڈالر بھیجے۔ ترسیلات بھجنے والوں کے لئے کوئی اعلان نہیں کیا گیا ۔ 

کم سے کم ٹیکس 0.25 سے بڑھا کر 0.50 فیصد کرنا  مزید مشکلات پیدا  کردے گا۔ 

کاسٹ آف پروڈکشن کم کرنے کا کوئی اہتمام نہیں

ثاقب فیاض مگوں نے کہا، اس بجٹ میں امید تھی کے انڈسٹری کی پیداواری لاگت کم کرنے کا اعلان کیا جائے گا ۔

پیداواری لاگت کم کرنے کے لئے  کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا، یہ سرسری ردعمل بجٹ تقریر اور دستاویزات کے سرسری جائزہ پر مبنی ہے۔ اب پورا فنانس بل دیکھ کر مزید اپنے خیال کا اظہار کیا جائے گا

چھوٹی صنعت کیلئے کچھ نہیں! امان پراچہ

 ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر امان پراچہ نے وفاقی حکومت کے بجٹ پر اپنے ردعمل میں کہا،  چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کے لئے بجٹ میں کچھ اعلان نہیں کیا گیا۔

بجٹ تجاویز میں چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کے لئے پیکچ کا اعلان ہونا چاہئے تھا۔ 

بجلی اور گیس اور مشنری اور ٹیکس پر مرعات کی تجویز دی گئی تھی ۔ 

جو انڈسٹری بند ہوگئی ہے اس کو چلانے کے لئے کوئی پلان نہیں دیا گیا ۔
زرعی شعبے کے لئے بھی اگلے مالی سال کے لئے کوئی روڈ میپ نہیں دیا گیا ۔

زرعی شعبے میں روئی کا سیکٹر مشکلات کا شکار ہے اس کے لئے کچھ اعلان نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیئے:  بجٹ غیر تسلی بخش، ہمارے 8 ارب اب تک ری فنڈ نہیں ہوئے، سیالکوٹ چیمبر کے صدر کا ردعمل