بجٹ غیر تسلی بخش، ہمارے 8 ارب اب تک ری فنڈ نہیں ہوئے، سیالکوٹ چیمبر کے صدر کا ردعمل
Stay tuned with 24 News HD Android App
(میاں محمد اشفاق) سیالکوٹ کے تاجروں اور صنعتکاروں کے رہنماؤں نے بھی وفاقی حکومت کے بجٹ کو "غیر تسلی بخش" قرار دے دیا۔
سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے صدر احتشام گیلانی نے آج شام وفاقی وزیر خزانہ اورنگ زیب کی بجٹ تقریر اور بجٹ دستاویزات کی تلخیص سامنے آنے کے بعد اپنے ردعمل مین کہا، تمام چیمبرز کی مشاورت کے بعد ہم وفاقی بجٹ کو غیر تسلی بخش اور مایوس کن قرار دے رہے ہیں۔
احتشام گیلانی نے کہا، کراچی، لاہور، فیصل آباد، گجرات چیمبرز اور ایف پی سی سی آئی کا فکس ٹیکس ریجیم کی بحالی کا مشترکہ مطالبہ مسترد کیا گیا ہے۔
احتشام گیلانی نے سیالکوٹ کی ایکسپورٹر کمیونٹی کے خیالات کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا، وفاقی حکومت نے لوکل دکانداروں کو فکس ٹیکس کی سہولت دے دی لیکن ایکسپورٹرز کو محروم رکھا۔
احتشام گیلانی نے کہا، نئے بجٹ میں ایکسپورٹرز کو فیسلیٹیٹ کرنے کے بجائے دوبارہ ایف بی آر دفاتر کے چکروں میں دھکیل دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ فکس ٹیکس ختم کرنے سے کوئی کلیکشن نہیں بڑھے گی بلکہ الٹا حکومتی ریونیو کا نقصان ہوگا۔ بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام بزنس کو آسان بنا رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں کاسٹ آف پروڈکشن اور مشکلات بڑھائی جا رہی ہیں۔
ایکسپورٹرز پر سپر ٹیکس کا خاتمہ اور ری فنانس ریٹ بجٹ کے مثبت پہلو
سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے صڈر نے تنقید کے ساتھ بجٹ کے مثبت پہلؤں کا بھی اعتراف کیا، احتشام گیلانی نے کہا، ایکسپورٹرز پر سپر ٹیکس کا خاتمہ اور ری فائنانس ریٹ 4.5 فیصد کرنا بجٹ کے مثبت پہلو ہیں۔ انہوں نے کہا، لیکن سیالکوٹ کی 90 فیصد انڈسٹری ایس ایم ای سیکٹر پر مشتمل ہے، سپر ٹیکس ختم ہونے کا فائدہ صرف چند بڑے کو ہوگاایکسپورٹرز کو ہو گا۔ یہ سپر ٹیکس صرف انہی پر نافذ تھا۔
احتشام گیلانی نے شکایت کی کہ وزیراعظم کے واضح احکامات کے باوجود سیالکوٹ کے ایکسپورٹرز کا 8 ارب روپے کا ری فنڈ اب تک کلیئر نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا، حکومتی پالیسیوں کے باعث ملک کی مجموعی ایکسپورٹ 32 ارب ڈالر سے کم ہو کر 30 ارب ڈالر پر آ گئی ہے۔