انسانی جسم کیلئے کتنی گرمی برادشت کرنا مشکل ؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)پاکستان سمیت دنیا بھر کے متعدد ممالک میں آج کل شدید گرمی اور ہیٹ ویوز کے باعث کروڑوں افراد معمول سے زیادہ درجہ حرارت کا سامنا کر رہے ہیں۔
درحقیقت موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہیٹ ویوز کی شدت اور دورانیے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک سوال اکثر افراد کرتے ہیں کہ آخر کتنا درجہ حرارت روزمرہ کی سرگرمیوں کے لیے بہت زیادہ تصور کیا جا سکتا ہے۔
اس سوال کا جواب سادہ نہیں کیونکہ درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ فضا میں موجود نمی کی مقدار بھی اس حوالے سے کردار ادا کرتی ہے۔
2010 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ زیادہ نمی والے علاقے میں 35 ڈگری سینٹی گریڈ انسانی جسم کے تحفظ کی آخری حد ہے۔
اس سے زیادہ درجہ حرارت میں انسانی جسم پسینے کو بخارات بنا کر خود کو ٹھنڈا نہیں رکھ پاتا اور جسمانی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے جس سے ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھتا ہے۔
مگر حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور انسانی جسم کی برداشت بھی متاثر ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں:ہیٹ ویو کے اثرات تعلیمی اداروں تک پہنچ گئے،6طالبات کی حالت غیر
یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں سائنسدانوں کی جانب سے کافی تحقیقی کام کیا جا رہا ہے۔
2023 میں برطانیہ کی Roehampton یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ 40 ڈگری درجہ حرارت پر انسانی جسم کے لیے گرمی کو کنٹرول کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور اسے خود کو ٹھنڈا رکھنے میں سخت جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔
اس تحقیق میں 13 بالغ افراد پر کو مختلف درجہ حرارت اور نمی والے ماحول میں ایک گھنٹے تک آرام کرایا گیا۔
تحقیق کے دوران 27 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں تجربات کیے گئے تھے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جب درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے تو میٹابولک ریٹ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر اگر فضا میں نمی بہت زیادہ ہو۔
محققین کے مطابق نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ 40 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر انسانی جسم کو خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بہت زیادہ جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ صرف زیادہ درجہ حرارت ہی انسانی صحت کے لیے خطرہ نہیں بلکہ گرمی کے ساتھ ساتھ زیادہ نمی بھی جسم کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔