آل پاکستان انجمن تاجران نے بھی وفاقی بجٹ کو مسترد کردیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ صرف الفاظ کا ہیر پھیر ہے اس کو مسترد کرتے ہیں،اتنا بڑا ٹیکس ہدف کہاں سے پورا ہو گا،ہر سال ٹیکس ہدف بڑھا دیا جاتا ہے آمدن ہے نہیں۔
اجمل بلوچ نے وفاقی بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ حکومت نے اپنے اخراجات اور مراعات میں کمی کا اعلان کیوں نہیں کیا،بجٹ سے پہلے اسمبلی ممبران اور وزیروں مشیروں کی تنخواہیں بڑھا دی گئیں،قومی اسمبلی ، سینیٹ اور حکومتی اخراجات میں 28 فیصد اضافہ عوام پر بوجھ نہیں،سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کے صرف کرسی پر بیٹھنے کی تنخواہ تیرہ تیرہ لاکھ کر دی گئی۔
صدر آل پاکستان انجمن تاجران کاکہناتھا کہ خدا کیلئے لگژری گاڑیوں سے نیچے اترا جائے،حکومت عام آدمی کی قوت خرید کو بڑھانے میں ناکام رہی ہے،عام آدمی میں قوت خرید نہ ہونے کی وجہ سے مینوفیکچرر اور ریٹیلرز کا نقصان ہو رہا ہے،خریدار میں اگر خریداری کی سکت نہیں ہوگی تو معاشی حالات کیسے بہتر ہونگے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب کا بجٹ پیش کرنے کی تاریخ تبدیل ، اہم وجہ بھی سامنے آ گئی
ان کاکہناتھا کہ بجائے بجلی سستی کرنے کے سولر کی امپورٹ پر 18 فیصد سیل ٹیکس لگا دیا گیا،بجلی بل پر 10 فیصد سرچارج لگانے کی تجویز کو بھی مسترد کرتے ہیں،وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں آئی پی پیز کا ذکر تک نہیں کیا،آئی پی پیز ظالمانہ معاہدوں نے عوام کی قمر توڑ رکھی ہے،مفت بجلی اور بجلی چوری پر قابو پانے کیلئے کوئی بات نہیں کی گئی،اجمل بلوچ نے کہاکہ آئی پی پیز معاہدے ری شیڈول کرکے مہنگی بجلی کے عذاب سے نجات دلائی جائے،بجلی کے بل پر پہلے ہی 13 قسم کے ٹیکسز تھے کاربن لیوی کی کمی باقی تھی،کالے قانون والے اختیارات واپس نہ لئے گئے تو مشاورت کے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:بجٹ کے بعد ڈالر اور دیگر غیرملکی کرنسیوں کی قیمت میں اضافہ، روپیہ مزید کمزور ہو گیا