معاہدے سے غزہ میں مکمل جنگ بندی ہوگی، عالمی برادری اسرائیل پر نظر رکھے:سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا کہ کفر ٹوٹا خد ا خدا کر کےغزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔اس سے قبل بھی دو دفعہ جنگ بندی کی بات ہوئی تھی لیکن پھر اس معاہدہ کے توڑ کر نہتے فلسطینیوں پر بمباری شرو ع کر دی گئی۔
24 نیوز کے پروگرام ’’سلیم بخاری شو‘‘ میں رائے دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس دفعہ جو گارنٹر ہے وہ تو امریکی صدر ٹرمپ ہیں کیونکہ ٹرمپ اگر امن نہ چاہیں تو اسرائیل غزہ کو قبرمیں اتار چکا ہوتا ،اس کے باوجود 67ہزار لوگوں کو شہید کر دیا گیا، 150لاکھ لوگوں کو زخمی کر دیا گیا، غزہ کا کیا حال کر دیا ہے، اس جنگ سے پہلے کا غزہ اور موجودہ غزہ ایک قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے۔
اس سوال کے جواب میں کے کیا یہ سب گھر حماس کے لوگوں کے تھے جن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔سلیم بخاری نے کہا کہ ایسا نہیں ہے دراصل انہوں نے حماس کا نام لیکر فلسطین میں نسل کشی کی کوشش کی ہے۔یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے نیتن یاہو کو نسل کشی کا مجرم قرار دیکر گرفتاری کے آرڈر دیے ہیں۔
سلیم بخاری نے معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حماس کے رہنما اسامہ حمدان اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے غزہ امن معاہدے کی تفصیلات پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج غزہ شہر، شمالی علاقوں، رفح اور خان یونس سے انخلا کرے گی، 5 سرحدی گزرگاہوں سے یومیہ 600 ٹرک غزہ میں داخل ہوں گے۔
انہوں نے کہا قیدیوں کا تبادلہ صرف اسی صورت میں ہوگا جب جنگ کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا، عالمی برادری کو اسرائیل کے رویے پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ وہ معاہدے پر عمل درآمد کرے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان طے پانے والا معاہدہ غزہ پر جنگ کے مکمل خاتمے کا معاہدہ ہے، عالمی برادری کو اسرائیل کے رویے پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ وہ معاہدے پر عمل درآمد کرے۔قیدیوں کا تباد لہ بھی صرف اسی صورت میں ہوگا جب جنگ کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کی بنیادی شق غزہ پر جنگ کا خاتمہ ہے، اور ثالثوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اسرائیل معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ثالثوں نے جنگ بندی کے باضابطہ اعلان کا اختیار امریکا کو دیا ہے، معاہدے کے تحت 250 عمر قید یافتہ قیدیوں اور غزہ کے 1700 قیدیوں کو رہا کیا جائے گا ۔
فلسطینی دھڑوں نے غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھالنے کے لیے 40 ناموں پر مشتمل ایک تجویز پیش کی ہے، اور غزہ کا انتظام اسرائیلی مداخلت سے پاک، صرف قومی فلسطینی شخصیات کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔اور وہ اپنی سرزمین کا کنٹرو ل کسی بھی صورت میں کسی غیر مسلم یا غیر فلسطینی کے ہاتھ میں نہیں دیں گے۔
وزیر اعلیٰ کے پی کی تبدیلی وجوہات پر گفتگو کرتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا کہ بانی کی ہدایت تھی کے اپ سینٹر کے جانب سے ہونے والے آپریشن کو روکیں اور مدافعت کی حد تک جائیں جو گنڈا پور کو متعلقہ حلقوں کی طرف سے بریف بھی کیا گیا تھا لیکن آخر میں انہوں نے دو بیانات ایسے دیئے جس سے پتہ چلا کہ وہ بانی کی پالیسی کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے۔
دوسرا ان کی ایک بی بی سے صلح تھی تو دوسری بی بی علیمہ خان کے ساتھ تو ان کی ان بن چل ہی رہی تھی۔لیکن جب دوسری بی بی کو بھی یہ یقین دلایا گیا کہ یہ جو آپ کو جیل لایا گیا ہے اس کے پیچھے بھی علی امین گنڈا پور ہیں۔
تیسری وجہ گورننس تھی گورننس نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے ایک وزیر اعلی ٰ سے جلسے کرائے ہیں ،جلوس کرائے ہیں، لانگ مارچ کرائےہیں، یہ جو اتنے بڑے بڑے جلوس لانگ مارچ پی ٹی آئی کرانےمیں کامیاب ہوئی اس کی وجہ علی امین گنڈا پور کا اپنا قد کاٹھ تھا۔وہ پارٹی کے ساتھ ساتھ کے پی میں بھی اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :ڈی جی آئی ایس پی آر کل دوپہر ڈھائی بجے اہم پریس کانفرنس کرینگے