امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کب اسلام آباد پہنچیں گے؟

Apr 09, 2026 | 02:06:AM
 امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کب اسلام آباد پہنچیں گے؟
کیپشن: منگل کے روز ہنگری کے بڈاپیسٹ میں ایم ٹی کے سپورٹ پارک میں ایک پروگرام کے دوران ہنگری کے پرائم منسٹر اوربان اور  نائب صدر جے ڈی وینس ایک ساتھ اسٹیج پر نظر آئے . (فوٹو : بذریعہ گوگل)
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کرنے کے لئے روانہ ہو چکے ہیں۔ ان کی منزل اسلام آباد ہو گا۔ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں اور ان کے ساتھ آنے والوں کی میزبانی کی تیاریاں پہلے ہی مکمل کی جا چکی ہیں۔

اس سے پہلے  وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس ہفتے کے روز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکی ٹیم کی قیادت کریں گے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے ھوالے سے بتایا کہ امریکی اور ایرانی وفود جمعے کو پاکستان پہنچ رہے ہیں، پاکستانی وزیر اعظم کے حوالے سے بتائی گئی اس خبر میں یہ واضح نہیں تھا کہ آیا جے ڈی وینس خود بھی جمعہ کو ہی پاکستان ک کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔ 

کیا جے ڈی وینس خود اسلام آباد آئیں گے؟

جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تک امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس ہنگری کے دارالھکومت بوداپست میں موجود ہیں۔

 لیکن توقع  کی جا رہی ہے  کہ وہ اس ہفتے کے آخر میں (جمعہ کے روز؟) اسلام آباد، پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی امن مذاکرات کی  قیادت کر سکیں۔
 جے ڈی وینس منگل 7 اپریل کو بڈاپسٹ پہنچے تھ ے۔ ان کے اس وزٹ کا بظاہر مقسد ہنگری کے آئندہ پارلیمانی انتخابات سے قبل وزیر اعظم وکٹر اوربان کی حمایت کا اظہار کرنا ہے۔
 جمعرات  8 اپریل کو، وینس نے ہنگری کے دارالحکومت بوداپست میں یونیورسٹی کےسٹوڈنٹس سے خطاب کرتے ہوئے، موجودہ امریکی ایران جنگ بندی کو ایک "نازک جنگ بندی" قرار دیا۔   وینس نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو "اچھا پہلا قدم" قرار دیا لیکن خبردار کیا کہ "ایرانیوں کو اگلا قدم اٹھانا پڑے گا۔

وینس کا ہنگری کا دورہ آج  جمعرات، 9 اپریل تک جاری رہنے کی توقع ہے۔


جے ڈی وینس کی اسلام آباد کے لیے  متوقع روانگی
متوقع روانگی: نائب صدر جے ڈی وینس کا ہنگری مین شیڈول مصروفیات کے بعد کا شیڈول کسی کو ٹھیک سے معلوم نہیں تاہم یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس ہفتے کے آخر میں وہ ، جیسا کے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری بتا چکی ہیں، پاکستان میں امریکی وفد کی قیادت کریں گے، اسلام آباد میں باضابطہ مذاکرات ہفتہ کی صبح 11 اپریل کو شروع ہوں گے۔
مشن:  جے ڈی وینس کے ساتھ خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر ایرانی حکام کے ساتھ دیرپا امن معاہدے پر بات چیت کریں گے۔
ممکنہ تاخیر: اگرچہ وائٹ ہاؤس نے جے ڈی وینس کے اسلام آباد مشن کی تصدیق کر دی ہے، صدر ٹرمپ نے حال ہی میں نوٹ کیا کہ وینس کی اسلام آباد میں موجودگی سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے حتمی تصدیق سے مشروط ہے۔

ٹرمپ نے وینس کی اسلام آباد مذاکرات میں ممکنہ عدم شرکت کے متعلق کیا کہا؟

امریکیہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اخبار دی نیویارک پوسٹ کو بتایا   کہ نائب صدر جے ڈی وینس شاید "سیکیورٹی خدشات" کی وجہ سے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے امن اجلاس میں شرکت نہیں کر سکتے۔
"ہمارے پاس سٹیو وٹ کوف، جیرڈ کشنر، جے ڈی [وانس] ہوں گے - شاید جے ڈی، مجھے نہیں معلوم۔ حفاظت، سلامتی کا سوال ہے،" ٹرمپ نے ایک فون انٹرویو میں دی پوسٹ کو بتایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ذاتی طور پر بات چیت "بہت جلد، حقیقت میں - یہ بہت جلد ہونے والی ہے۔"

"جنگ بندی معاہدہ"  کی خلاف ورزی پر عبوری جنگ بندی ختم کرنے کی ایرانی وارننگ

کینیڈر پر  جمعرات 9 اپریل کے آغاز کے بعد یہ بریکنگ خبر ایرانی میڈیا  کے حوالے سے پاکستانی میڈیا میں سامنے آئی ہے کہ ایرانی قیادت نے وارننگ دی ہے کہ اگر اسرائیل نے "جنگ بندی معاہدہ" کی خلاف ورزی جاری رکھی تو ایران "عبوری جنگ بندی" سے نکل سکتا ہے۔ 

لبنان کی جنگ پر نکتہ نظر کا فرق

" ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ ​​بندی میں لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ اسرائیل کے تنازع میں وقفہ شامل ہونا چاہیے۔یہی بات پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کہی۔

 وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ لبنان جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے۔ یہی بات جے ڈی وینس نے بھی میڈیا کے نمائندوں کے سامنے  کہی۔

لیویٹ نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو "بغیر کسی حد کے فوری طور پر دوبارہ کھول دیا جائے" اور کہا کہ یہ "یقینی طور پر قبول شدہ" پالیسی پوزیشن نہیں ہے کہ ایران کو ٹول چارج کرنے کی اجازت دی جائے۔

آبنائے ہرمز ایک بار پھر بند

ایران نے آبنائے ہرمز کو بظاہر جہازوں اور آئل ٹینکروں کی آمدورفت کے لئے ایک بار کھول دیا تھا لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کر دیا ہے۔ ایران کی طرف سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لبنان پر حملے بند نہیں کئے گئے، اس لئے وہ آبنائے ہرمز کو بند کر رہے ہین۔ جمعہ کے دن  علی الصبح تک آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت بند ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  مذاکرات کی شرائط اور  مجوزہ معاہدے کےمسودے؛ ٹرمپ نے سب کو جعلی قرار دے دیا