پی ٹی آئی رہنما اعجاز چودھری کی 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کے 3 مقدمات میں ضمانت منظور
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعجاز چوہدری کی نو مئی جلاؤ گھیراؤ کے تین مقدمات میں ضمانت منظور کرلی۔
تفصیلات کے مطابق اعجاز چوہدری کی جانب سے دائر تین مقدمات میں درخواستوں پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنادیا۔
عدالت نے تین مقدمات میں ضمانتیں منظور کرنے کا حکم سنا دیا۔ درخواست پر سماعت جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔
اعجاز چوہدری کے وکیل میاں علی اشفاق دلائل مکمل کیے اور بتایا کہ میرے مؤکل کیخلاف مسلم لیگ ن کا آفس جلانے ،گلبرگ میں کیٹینر جلانے سمیت تین مقدمات درج ہیں۔
دوران سماعت اعجاز چودھری کے وکیل میاں علی اشفاق نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کے برعکس تینوں کیسز میں درخواست ضمانتیں مسترد کیں، پولیس نے سیاسی بنیادوں پر مقدمات درج کیے، ملزم پر لوگوں کو اکسانے کا الزام ہے حالانکہ جب یہ واقعات ہوئے اس وقت اعجاز چودھری نظر بند تھے اور اسلام آباد میں موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں:علی امین گنڈاپور نے مستعفی ہونے کے بعد پہلا رابطہ کس سے کیا؟پتہ چل گیا
وکیل کا کہنا تھا کہ لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے حوالے سے شواہد موجود نہیں ہیں، درخواست گزار کا جلاؤ گھیراؤ سے کوئی تعلق نہیں ہے لہٰذا عدالت درخواست ضمانتیں منظور کرنے کا حکم جاری کرے۔
دوران سماعت پراسکیوشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ یہ بات درست ہے اعجاز چودھری 9 مئی کے واقعات میں موقع پر موجود نہیں تھے اور نہ ہی ایف آئی آر میں نامزد ہیں لیکن سوشل میڈیا پر اعجاز چودھری کی جانب سے کارکنوں کو اکسایا گیا اور ان کے گھر سے 10 پٹرول بم برآمد ہوئے لہٰذا عدالت تینوں مقدمات میں درخواست ضمانتیں خارج کرے۔
بعدازاں عدالت نےمحفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اعجاز چودھری کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرلیں۔
یہ بھی پڑھیں: نئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا انتخاب کیسے ہوگا؟ طریقہ کار منظر عام پر آگیا