صدر اوروزیراعظم کے سارک چارٹرڈے کی 40ویں سالگرہ کے موقع پر پیغامات

Dec 08, 2025 | 00:04:AM
صدر اوروزیراعظم کے سارک چارٹرڈے کی 40ویں سالگرہ کے موقع پر پیغامات
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف نے سارک چارٹرڈے کی 40ویں سالگرہ کے موقع پر پیغامات جاری کر دیئے۔

صدر آصف علی زرداری کاکہناتھا کہ جنوب ایشیائی تنظیم برائے علاقائی تعاون (سارک) کے چارٹر کی 40ویں سالگرہ کے موقع پر میں خطے کے عوام اور حکومتوں کو مبارکباد  پیش کرتا ہوں۔

ان کاکہناتھا کہ سارک کا آغاز دسمبر 1985 میں ڈھاکا میں اس سادہ سوچ کے ساتھ ہوا تھا کہ اگر جنوبی ایشیا کی اقوام باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں تو خطے کا مستقبل زیادہ محفوظ اور خوشحال ہو سکتا ہے۔ اسلام آباد نے اس وژن کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے پہلے دور حکومت میں چوتھا سربراہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا اور بعد ازاں بارہویں اجلاس کی میزبانی بھی ہم نے کی۔

صدر مملکت کاکہناتھا کہ انیسواں سربراہ اجلاس 2016 میں اسلام آباد میں ہونا تھا،   چونکہ میزبانی کے لئے پاکستان کی باری تھی۔ لیکن بھارت کی عدم شرکت کی وجہ سے یہ سلسلہ رک گیا۔ گزشتہ گیارہ برسوں سے سارک کا عمل منجمد ہے۔ اپنے تقریباً تمام پڑوسیوں کے ساتھ تنازعات کے باعث بھارت کا رویہ مؤثر علاقائی تعاون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے، جس کے نتیجے میں پورا خطہ اس کی تنگ نظر پالیسیوں کا غیر ضروری طور پر اسیر بنا ہوا ہے۔

صدر آصف زرداری کاکہناتھا کہ اس تعطل نے رکن ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ آیا جنوبی ایشیا مزید اس جمود کا متحمل ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اب اس بات میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پائی جا رہی ہے کہ ایک ایسا علاقائی فریم ورک تشکیل دیا جائے جس کے دروازےسب کیلئے کھلے ہوں، مگر کسی ایک ملک کو اجتماعی پیش رفت روکنے کی اجازت نہ ہو۔ اس ممکنہ نئے ڈھانچے میں ایران اور چین جیسے خطے کے اہم ممالک کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان کی شرکت سے خطے میں وسیع تر رابطہ کاری، اقتصادی انضمام اور استحکام کو تقویت ملے گی۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک تعاون پر مبنی، جامع اور دوراندیش علاقائی نظام کا خواہاں ہے۔ ہم جغرافیائی لحاظ سے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر ہیں۔ ہم تمام خواہش مند ریاستوں کے ساتھ تجارت، ٹرانزٹ، توانائی کے روابط اور عوامی سطح پر باہمی روابط کو فروغ دینے کیلئے تیار ہیں، جن سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔

ان کاکہناتھا کہ چارٹر ڈے کے موقع پر، میں جنوب ایشیائی ممالک کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ واضح سوچ اور خلوص کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھیں۔ خطے کے مسائل مشترکہ ہیں، اسی طرح ان کے حل بھی مشترکہ ہونے چاہئیں۔ باہمی احترام اور عملی تعاون کی روح کے ساتھ ہم آنے والی نسلوں کیلئے زیادہ پرامن اور زیادہ خوشحال خطہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج سارک (SAARC) چارٹر دن کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر، میں SAARC کے تمام رکن ممالک کی حکومتوں اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آج کا یہ پر مسرت موقع ہمیں جنوبی ایشیا میں امن، ترقی اور خوشحالی کے ہمارے مشترکہ عزم کی بھی یاد دلاتا ہے۔

ان کاکہناتھا کہ چالیس برس قبل جب SAARC کی بنیاد رکھی گئی تھی تو اس کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے ممالک کے درمیان مکالمے کو فروغ دیا جائے، تعاون کو مضبوط کیا جائے اور تعلقات اتنے مستحکم ہوں جو ہمیں ایک دوسرے کے مزید قریب لائیں۔ بدقسمتی سے علاقائی، سیاسی عوامل کے باعث یہ مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے، تاہم میں SAARC سیکرٹریٹ کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ اس نے تنظیم کے اہداف کے فروغ اور رکن ممالک کے درمیان بامعنی تعاون کے مواقع پیدا کرنے میں تسلسل کے ساتھ بھرپور معاونت فراہم کی ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے کہاکہ خطے میں بڑھتے ہوئے علاقائی تعاون کے تناظر میں، جنوبی ایشیا میں اقتصادی، ڈیجیٹل اور عوامی روابط کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ہمیں مل کر ایسے روابط کو تقویت دینا ہوگی جو تجارت، سرمایہ کاری، جدت اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دیں۔ہمارا خطہ غربت، موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات، غذائی و توانائی کے عدم تحفظ اور صحت عامہ جیسے مشترکہ چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ چیلنجز سرحدوں سے بالاتر ہیں اور ان کا حل باہمی اعتماد، نیک نیتی اور تعاون کی روح کے ساتھ اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ صرف مشترکہ اقدام کے ذریعے ہی ہم اپنی عوام کے لیے ایک مضبوط اور جامع مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں۔

وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ پاکستان SAARC چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کا پرعزم حامی ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ  ایسا حقیقی تعاون جو خودمختار برابری، باہمی احترام اور مثبت روابط کی بنیاد پر قائم ہو وہی جنوبی ایشیا کی بے پناہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوۓ ہم سب کے لیے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

آئیے آج ہم اپنے عزم کی تجدید کریں کہ ہم ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال جنوبی ایشیا کی تشکیل کے لیے مل کر کام کریں گے۔  ایسا خطہ جو تعاون، روابط اور اپنی عوام کی اجتماعی فلاح  وبہبود کے مشترکہ مقاصد پر قائم ہو۔

دیگر کیٹیگریز: پاکستان - قومی
ٹیگز: