امریکی سائنسدان شارک سے انوکھا کام لینے لگے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)امریکی ریاست ڈیلاویئر کی یونیورسٹی کے محققین شارکس پر ایسے چھوٹے سینسر نصب کر رہے ہیں جو سمندر کے درجہ حرارت، نمکیات اور گہرائی سے متعلق معلومات جمع کرکے سیٹلائٹس کے ذریعے سائنسدانوں تک پہنچاتی ہیں۔ شارکس سے حاصل ہونے والا یہ ڈیٹا مستقبل میں سمندری طوفانوں کی پیش گوئی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
فلموں میں شارک مچھلی کو ہمیشہ خوف کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن امریکی سائنس دان اب انہی سمندری شکاریوں کو سمندر کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرنے والے قدرتی ’ڈیٹا آبزرور‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
یونیورسٹی آف ڈیلاویئر شارکس کو ایسے متحرک سمندری مشاہدہ کاروں کے طور پر استعمال کر رہی ہے جس سے سمندر کی بدلتی صورت حال کا ’ریئل ٹائم ڈیٹا‘ جمع کر کے اسے سمندری، ماحولیاتی اور موسمیاتی ماڈلز کو بہتر بنانے کیلئے استعمال کیا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے شارکس پر الیکٹرانک سینسرز نصب کیے جاتے ہیں جو سمندر کے پانی کی میں موجود نمکیات کے ساتھ ساتھ پانی کے درجہ حرارت اور گہرائی کو ریکارڈ کرتے ہیں اور مسلسل معلومات جمع کرتے رہتے ہیں۔
مزید پڑھیں:لائیو نشریات میں نیوز اینکر سو گئی، ویڈیو وائرل
یونیورسٹی کے سکول آف میرین سائنس اینڈ پالیسی کے پروفیسر اور اس تحقیق کے سربراہ آرون کارلائل کے مطابق جانوروں پر نصب سینسر پہلے بھی سمندری تحقیق میں کامیابی سے استعمال ہو چکے ہیں، شارکس اس تحقیق کے لیے ایک نیا موقع فراہم کرتی ہیں کیونکہ یہ بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں، وسیع سمندری علاقوں میں حرکت کرتی ہیں اور کئی محفوظ سمندری ممالیہ جانوروں کے مقابلے میں ان تک رسائی نسبتاً آسان ہے۔
اس سے قبل شارکس کی ٹیگنگ زیادہ تر ان کی نقل و حرکت اور ان کے استعمال کردہ سمندری ٹھکانوں کا پتا لگانے تک محدود رہی ہے، تاہم ڈیلاویئر یونیورسٹی کی ٹیم اب شارک کی ایسی نسلوں کا انتخاب کر رہی ہے جو سمندری طوفانوں کی تحقیق کے لیے زیادہ مفید ڈیٹا فراہم کر سکیں اور اتنی مرتبہ سطح آب کے قریب آئیں کہ ان پر نصب ٹیگز سیٹلائٹس کو معلومات منتقل کر سکیں۔
شمالی بحرِ اوقیانوس میں کیے گئے سابقہ تجزیوں میں شارک کی مختلف نسلوں مثلاً شارٹ فِن ماکو، بلیو شارک، اسموتھ ہیمر ہیڈ اور کم عمر گریٹ وائٹ شارک کو اس تحقیق کے لیے موزوں امیدوار قرار دیا گیا ہے۔