ایم ایم عالم کاپانچ جہازگرانے کاریکارڈمحض مُعجزہ نہیں تھا

وہ برصغیر کے واحد ایس(ace) پائلٹ تھے،ان کاگنریز اسکوربہت اچھّا تھا،ریکارڈکوئی نہیں توڑسکا

Sep 07, 2025 | 09:27:AM
ایم ایم عالم کاپانچ جہازگرانے کاریکارڈمحض مُعجزہ نہیں تھا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایم وقار)جنگ ستمبر نہ صرف پاکستان بلکہ دُنیا کی جنگی تاریخ کاایک محیّرالعقول واقعہ ہے جب ایک بے سروسامان قوم نے خود سے کئی گُنا بڑی فوجی طاقت کا غرورپاش پاش کرکے رکھ دیا تھا،اس جنگ میں پاک فضائیہ کا کردار سب سے اہم ہے جس نے ایک ہاری ہوئی جنگ کو فتح میں تبدیل کردیاتھا،چشم فلک نے اس جنگ کے دوران وہ مناظر بھی دیکھے جب ایم ایم عالم نے دُشمن کے پانچ جہازدومنٹ میں تباہ کردیئےیہ ریکارڈ آج تک کوئی نہیں توڑ سکا۔
ایم ایم عالم برصغیر کے واحد ایس(ace) پائلٹ تھے،ایس پائلٹ کی اصطلاح اس پائلٹ کے لئے استعمال کی جاتی ہے جس نے کسی جنگ میں دُشمن کے  5 جہازگرائے ہوں،بھارت کے کسی پائلٹ نے5 تودرکنار2 جہازبھی نہیں گرائے جبکہ ہمارے دواور تین جہازگرانے والے پائلٹ بے شُمارہیں۔ایم ایم عالم کا7ستمبرکودومنٹ میں پانچ جہازگرانے کاریکارڈآج تک کوئی نہیں توڑسکا، وہ 6 ستمبر کی شام بھی ایک جہازگراچکے تھے۔ 


ایم ایم عالم کی ”ڈاگ فائٹ“کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ہلواڑہ سے5 جہازسرگودھا پرحملہ کرنے آرہے تھے اور4 حملہ کرکے واپس جارہے تھے،ان جہازوں نے جس جگہ ایک دوسرے کوکراس کرنا تھا وہاں ایم ایم عالم موجود تھے اور انہوں نے پیچھے سے فائرنگ شروع کردی، فائرنگ شروع ہوتے ہی سب جہازوں نے ایک طرف ٹرن لے لیا اورایم ایم عالم نے ایک ایک کرکے 5 جہازوں کونشانہ بنادیا،وہ بلاشُبہ ایئرفورس کے چند بہترین پائلٹس میں سے تھے اوران کاگنریز اسکوربہت اچھّا تھا،وہ ایف 86 سیبرکے سب سے بہترین پائلٹ تھے،ان کی جانب سے گرائے گئے 5جہازوں میں سے 3کا ملبہ سانگلہ ہل کے قریب گرا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:1965 کی جنگ میں7 ستمبر کو لڑے جانیوالے فضائی معرکے کی یاد میں آج یومِ فضائیہ منایا جارہا ہے
ایم ایم عالم بہت دُبلے پتلے اورچھوٹے قدکے انسان تھے اوردیکھ کرلگتا نہیں تھاکہ وہ فائٹرپائلٹ ہیں حالانکہ وہ دُنیا کے بہترین جیٹ فائٹر پائلٹ تھے،جیٹ فائٹر پائلٹ ویسے بھی اس وقت دُنیا میں گنتی کے ہیں،انہوں نے ساری زندگی شادی نہیں کی تھی اپناذاتی گھر بنایا نہ کبھی کوئی گاڑی خریدی،ان کی ساری تنخواہ غریبوں کی مدد میں ہی خرچ ہوتی تھی ،ان کی الماری میں صرف دوتین شلوار قمیض ہوتی تھیں،آخری سالوں میں انہوں نے سوٹ پہننا چھوڑدیاتھا،وہ بہت سادہ طبیعت کے مالک تھے لیکن صاحبِ مطالعہ تھے اوردُنیا کی ہر نئی اوراچھّی کتاب چل کران کے پاس پہنچ جاتی تھی،یہ کتابیں ہی ان کاکل اثاثہ تھیں جوان کے کمرے میں بِکھری ہوتی تھیں کیونکہ انہیں رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی،پاکستان ہی ان کا سب کچھ تھا،وہ کسی کی سفارش کرتے تھے نہ اپنا کیریئربنانے کے لئے کبھی کوشاں نظر آئے تھے۔