سزا گاہ نہیں اصلاح گاہ
افضل بلال
Stay tuned with 24 News HD Android App
ہر مضبوط معاشرہ ایک بنیادی سوال سے گزرتا ہے کہ کیا جیل صرف مجرم کو سزا دینے کی جگہ ہے یا انسان کو دوبارہ معاشرے کا مفید شہری بنانے کا ایک موقع بھی ہے؟ یہ سوال آج صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کے عدالتی اور اصلاحی نظام کے سامنے موجود ہے۔ ناروے، نیدرلینڈز، سنگاپور اور کئی دیگر ممالک نے گزشتہ دو دہائیوں میں اپنے جیل نظام کو سزا سے زیادہ بحالی کے تصور سے جوڑا ہے۔ وہاں قیدی کو صرف اس کے جرم سے نہیں بلکہ اس کے مستقبل سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ اسی عالمی سوچ کے تناظر میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں جیل اصلاحات کے حوالے سے متعدد اقدامات کیے جارہے ہیں۔ روایتی کال کوٹھڑیوں کو قید کے مراکز سے تعلیم، ہنر، علاج اور انسانی وقار پر مبنی اصلاحی اداروں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی صرف دیواروں کی نہیں، یہ سوچ کی تبدیلی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ جیل اصلاحات کے خصوصی اجلاس میں صوبے کے جیل نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا۔ اجلاس میں اوور کراؤڈنگ، بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت، سیکیورٹی، ٹیکنالوجی، قیدیوں کی فلاح اور بحالی کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر واضح کیا گیا کہ جیلوں کی کال کوٹھڑیوں کو حقیقی معنوں میں اصلاح گاہوں میں تبدیل کرنے کے لیے متعدد اصلاحات پر بیک وقت کام جاری ہے۔ کسی بھی اصلاحی نظام کی بنیاد اس سوچ پر ہوتی ہے کہ قیدی اپنی آزادی سے محروم ضرور ہے لیکن اپنے بنیادی انسانی حقوق سے نہیں۔ اسی تصور کے تحت اجلاس میں قیدیوں کی بنیادی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے مختلف فیصلے کیے گئے۔ قیدیوں کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والی 30 جیل وینز کو جدید طرز پر ایئر کنڈیشنڈ بنانے اور ری ماڈل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان وینز میں واش رومز، کیمرہ مانیٹرنگ اور بیک سپورٹ نشستیں فراہم کی جائیں گی تاکہ دورانِ سفر بنیادی سہولتیں میسر رہیں۔ اسی طرح مرد قیدیوں کے بخشی خانوں میں میٹرس فراہم کرنے، معیاری خوراک کی باقاعدہ نگرانی اور ہفتہ وار ڈائٹ پلان کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایات بھی دی گئیں۔
دنیا بھر میں ہونی والی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم قیدیوں میں دوبارہ جرم کی شرح کم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔ پنجاب کی جیلوں میں اسی سوچ کے تحت 'ایک بیرک، ایک لائبریری' پالیسی نافذ کی گئی۔ اس کے نتائج بھی سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔ اب تک 472 قیدی میٹرک، 367 انٹرمیڈیٹ اور 140 گریجویشن مکمل کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 'وزیراعلیٰ پنجاب لٹریسی پروگرام' کے تحت 4 ہزار 141 قیدی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔ یہ اعدادوشمار صرف تعلیمی کامیابی نہیں بلکہ ایک نئی زندگی کی امید کی علامت بھی ہیں۔ قیدیوں کی رہائی کے بعد سب سے بڑا سوال روزگار کا ہوتا ہے۔ اسی لیے جیلوں کے اندر صرف کتابیں ہی نہیں ہنر بھی سکھایا جا رہا ہے۔ قیدیوں کو موبائل فون ریپیئرنگ، موٹر سائیکل اور ٹریکٹر ریپیئرنگ، کمپیوٹر کورسز، ویلڈنگ اور کوکنگ کی عملی تربیت دی جا رہی ہے۔ مزید براں، پنجاب کی 15 جیلوں میں مارکیٹ اورینٹڈ جیل انڈسٹریز بھی فعال ہیں۔ یہاں قیدی فرنیچر، قالین، ٹف ٹائلز، میلامائن کراکری، بیوٹی سوپ، فینائل، واشنگ پاؤڈر، ایل ای ڈی لائٹس، فٹ بال، گلوز اور ڈریس میکنگ جیسے مختلف مصنوعات تیار کر رہے ہیں۔
شاید جیل کا سب سے حساس پہلو وہ بچے ہوتے ہیں جو اپنی ماؤں کے ساتھ وہاں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ اسی لیے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف خصوصی طور پر قیدی ماؤں اور چھ سال تک کے بچوں کے لیے غذائیت، فوڈ سپلیمنٹس، بہتر بیڈز، کھیل کے میدان اور تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ دے رہی ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ کی ہدایات پر کم عمر قیدیوں کے لیے موجود اصلاحی مراکز کو مزید اپ گریڈ کیا جائے گا۔ فیصل آباد اور بہاولپور کے جوینائل بروسٹل ہاؤسز میں تعلیم اور سماجی تربیت کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ ایک مؤثر جیل نظام میں علاج بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے جتنا نگرانی۔ جنوری سے جون 2026 تک 91 ہزار 266 قیدیوں کی میڈیکل اسکریننگ اور علاج کیا گیا۔ 74 پروفیشنل ماہرینِ نفسیات قیدیوں کی ذہنی صحت پر کام کر رہے ہیں۔ قیدیوں کو روزانہ تین مرتبہ معیاری خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔ مذہبی تہواروں پر خصوصی مینو بھی دیا جاتا ہے۔ خواتین قیدیوں کے لیے خصوصی ہائیجین کٹس اور بہتر واش رومز فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب کی جیلوں میں جدید رمیشن مینجمنٹ سسٹم، مفت بائیومیٹرک ویریفکیشن، وائس اینڈ پینک الرٹس، ایکس رے سسٹمز اور انٹیگریٹڈ کرمنل سسٹم پر کام جاری ہے تاکہ سیکیورٹی اور انتظامی شفافیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح پنجاب کی جیلوں کو بھی گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے مسئلے کا سامنا ہے۔ حالیہ اعدادوشمار کے مطابق جیلوں کی موجودہ گنجائش 39 ہزار تک پہنچ چکی ہے جبکہ قیدیوں کی مجموعی تعداد 68 ہزار سے 79 ہزار کے درمیان ہے۔ انڈر ٹرائل قیدیوں کا تناسب 73 فیصد ہے۔ اسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے 27 نئی بیرکیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ چنیوٹ، مری، ننکانہ صاحب اور سمندری سمیت نئی جیلوں پر کام جاری ہے۔ سال 2027 تک مجموعی گنجائش 43 ہزار 718 تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ ننکانہ صاحب کی زیر تعمیر جیل کے لیے 1.3 ارب روپے کے فنڈز منظور کیے گئے ہیں جبکہ ننکانہ صاحب اور سمندری جیلوں کو رواں سال ستمبر تک مکمل کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مالی طور پر کمزور قیدیوں کو لیگل ایڈ ایجنسی کے ذریعے مفت قانونی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ تمام قیدیوں کو آڈیو اور ویڈیو کال کی سہولت دستیاب ہے۔ ہر ہفتے 80 منٹ تک پی سی او کے ذریعے اہل خانہ سے گفتگو کی جا سکتی ہے۔ جیلوں میں ویٹنگ شیڈز، فیملی رومز اور ٹرانسپورٹ کارٹس بھی دوبارہ فعال کیے جا رہے ہیں۔ اصلاحات صرف انسانوں تک محدود نہیں رہیں۔ فیصل آباد، ڈی جی خان، پنڈی بھٹیاں سمیت پنجاب کی پانچ بڑی جیلیں مکمل طور پر سولر توانائی پر منتقل کی جا چکی ہیں جو توانائی کے متبادل ذرائع کے استعمال کی ایک عمدہ مثال ہے۔
دنیا بھر میں جدید جیل اصلاحات کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ سزا مکمل کرنے والا فرد دوبارہ جرم کی طرف نہ لوٹے بلکہ ایک ذمہ دار شہری کے طور پر معاشرے کا حصہ بن سکے۔ پنجاب میں جاری اصلاحات بھی اسی وسیع تصور کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں جن میں تعلیم، ہنر، صحت، ذہنی بحالی، قانونی معاونت، جدید ٹیکنالوجی، بنیادی سہولیات اور ادارہ جاتی اصلاح شامل ہیں۔ ان اقدامات کی طویل مدتی کامیابی کا انحصار ان کے مؤثر اور مسلسل نفاذ پر ہوگا تاہم ایک بات تو واضح ہے کہ جدید اصلاحی نظام کی بحث اب صرف جیل کی دیواروں تک محدود نہیں رہی بلکہ انسانی وقار، بحالی اور سماجی ذمہ داری جیسے تصورات کو بھی اس کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ بعض اوقات معاشرے کی سب سے بڑی کامیابی کسی مجرم کو سزا دینا نہیں، بلکہ ایک انسان کو دوبارہ زندگی جینے کا موقع دینا ہوتی ہے۔