آرٹیفیشل انٹیلی جنس بھی نیم حکیم نکلی، یوزرز کی صحت خطرے میں ڈال دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایک اور "نیم حکیم" ہے۔ مکمل تربیت یافتہ فزیشن کی بجائے آرٹیفیشل انٹیلیجنس بوٹ سے بیماری کے علاج کے متعلق مشورہ لینا اور میڈیکل پروفیشنل کی ضرورت کو فراموش ہی کر دینا صارفین کی صحت کیلئے خطرناک ہو سکتاہے۔
حال ہی میں یہ سامنے آیا ہے کہ گوگل کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس بوٹ کے مشوروں نے اپنے صارفین کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا۔
میڈیکل پروفیشنل خبردار کر رہے ہیں کہ غلط معلومات لوگوں کو علاج سے دور رکھ سکتی ہیں یا جان لیوا نتائج پیدا کرسکتی ہیں۔
انگلینڈ کی صف اول کی میڈیا آؤٹ لیٹ دی گارڈین کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گوگل کے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی "اوور ویو" جو صارفین کی کسی بھی سرچ کے نتائج کے رزلٹس میں اوپر ظاہر ہوتے ہیں، بعض اوقات صحت سے متعلق غلط اور گمراہ کن معلومات فراہم کرسکتے ہیں، جس سے لوگوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ اوور وِیو/خلاصے مددگار اور قابل اعتماد ہیں، لیکن ماہرین اس دعوے کو بھی خطرے مین اضافہ کا سبب تصور کر رہے ہیں۔ جائزہ نے کئی مثالوں کو خطرناک قرار دیا ہے۔ ایک کیس میں گوگل نے لبلبے کے کینسر کے مریضوں کو زیادہ چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا، جو لبلبے کے کینسر کے ماہرین کے مطابق بالکل غلط مشورہ ہے اور پڑھنے والے کسی مریض کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح کے مشورہ پر کوئی فوری طور پر عمل نہ بھی کرے تب بھی یہ کنفیوژن پیدا کرنے اور میڈیکل پروفیشنلز کی رائے پر اعتماد کم کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
اسی طرح جگر کے فنکشن ٹیسٹ کے بارے میں آئی اے بوٹ کی طرف سے فراہم کی گئی معلومات بھی درست نہیں تھیں، ان معلومات کے اثر میں آ کر شدید بیماری کے شکار افراد خود کو صحت مند سمجھ سکتے ہیں۔ خواتین کے کینسر ٹیسٹ، جیسے پیپ ٹیسٹ، کے بارے میں بھی سرچ نتائج میں غلط معلومات دی گئیں۔اسے بعض نے اندام نہانی کے کینسر کے ٹیسٹ کے طور پر پیش کیا، حالانکہ یہ حقیقت نہیں۔
صحت کے ماہرین اور اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ایسی غلط معلومات لوگوں کو علاج سے دور رکھ سکتی ہیں یا جان لیوا نتائج پیدا کرسکتی ہیں۔ مریضوں کے حقوق کے فورم کی ڈائریکٹر صوفی رینڈل نے کہا کہ گوگل کے AI اوور ویوز آن لائن سرچز میں غلط معلومات پیش کرکے صارفین کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ میری کیوری چیریٹی کی سٹیفنی پارکر نے کہا کہ ’’لوگ پریشانی کے وقت انٹرنیٹ پر انحصار کرتے ہیں، اور اگر معلومات غلط ہوں تو یہ نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کے رہنماحافظ غلام محی الدین کی بھابھی انتقال کرگئیں
دی گارڈین نے اپنی رپورٹ میں کئی مثالیں پیش کیں جن میں گوگل کے AI اوور ویوز نے نفسیاتی بیماریوں اور کھانے کی عادات کے حوالے سے خطرناک اور غلط مشورے دیئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معلومات نہ صرف غلط ہیں بلکہ لوگ اس کی بنیاد پر ضروری مدد لینے سے رک سکتے ہیں۔
گوگل نے اس تنقید کے جواب میں اصرار کیا ہے کہ زیادہ تر AI اوورویوز درست اور مددگار ہیں اور کمپنی معیار بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سرچ نتائج میں ہر یوزر کے سامنے آ جانے والی یہ غلط معلومات صحت کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔