اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملے سے امن کی کوششیں سبوتاژ ہوئیں:اسحا ق ڈار کا سینیٹ میں خطاب 

Apr 07, 2026 | 18:46:PM
اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملے سے امن کی کوششیں سبوتاژ ہوئیں:اسحا ق ڈار کا سینیٹ میں خطاب 
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(عثمان خان )نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جب ایران پر حملہ ہوا تو میں مدینہ منورہ میں تھا،میں نے وہاں سے کہا کہ فوراً پاکستان ایران پر حلے کی مذمت کرے،پاکستان پہلا اسلامی ملک تھا نے جس نے ایران پر حملے کی مذمت کی۔

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈارنے سینیٹ  اجلاس کے دوران خطے کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ حملے کے کچھ دیر بعد ایران کے وزیرِ خارجہ عراقچی سے رابطہ کیا،ایران پر حملے کے تین یا چار گھنٹوں میں قریبی ممالک پر سٹرائیک شروع ہو گئی، اس وقت پاکستان بطور ثالث کردار ادا کر رہا ہے۔

 اسحاق ڈار نے کہا کہ ایسے موقع پر کوئی تفصیلی  بات نہیں کر سکتا،وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈر مارشل عاصم منیر کا کردار اہم ہے،انیس مارچ کی رات گھنٹوں تک وزرائے خارجہ کی بات چیت ہوئی،پہلے بارہ ممالک اور پھر گروپ آف فور ممالک کی بات چیت ہوئی،گروپ آف فور کی میٹنگ 28 کو استنبول میں طے ہوگئی۔

انھوں نے کہا کہ تمام تر کوششوں سے گروپ آف فور کی میٹنگ پھر اسلام آباد میں ہوئی،اس وقت جنگ کے دونوں فریق اسلام آباد میں بات چیت کیلئے تیار ہوئے،امریکہ نے پندرہ پوائنٹس کی لسٹ دی جو ہم نے ایران کو دی ،ایران نے پانچ پوائنٹس کی لسٹ دی۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ کل بہت خطرناک پیش رفت ہوئی اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا ،جواب میں ایران نے سعودیہ کے علاقے جبیل پر حملہ کر دیا ،کل رات سے پہلے میں بہت پُر امید تھا کہ قیام امن کی طرف جلد راستہ نکلے گا۔

یہ بھی پڑھیں :ایران کے سعودیہ پرحملے غیر ضروری کشیدگی ہیں