افغان باشندوں کی مجرمانہ سرگرمیاں، جرمنی اور ترکیہ نے ملک بدری کا عمل تیز کر دیا

Jan 06, 2026 | 10:48:AM
افغان باشندوں کی مجرمانہ سرگرمیاں، جرمنی اور ترکیہ نے ملک بدری کا عمل تیز کر دیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک )افغان مہاجرین کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے جرمنی اور ترکیہ میں ملک بدری کا عمل تیز کر دیا گیا۔

متعدد ممالک کو افغان مہاجرین کی سرگرمیوں پر سکیورٹی تشویش لاحق ہے، افغان مہاجرین کے دہشت گرد گروہوں سے روابط کے شواہد بھی سامنے آ گئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی میں افغان مہاجرین کیلئے سخت امیگریشن پالیسی نافذ کی گئی ہے، مختلف جرائم میں ملوث ایک اور افغان پناہ گزین جرمنی سے ملک بدر کر دیا گیا ہے۔

جرمن میڈیا کے مطابق افغان مہاجر منشیات اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا، سنگین جرائم میں ملوث 83 افغان پناہ گزین جرمنی سے بے دخل کر دیے گئے، 2025 میں 11ہزار 888 رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو جرمنی چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔

 یہ بھی پڑھیں:وینزویلا سے متعلق امریکیوں کا رائے سامنے آگئی

جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنڈٹ کا کہنا تھا کہ جرائم میں ملوث پناہ گزینوں کی واپسی ناگزیر ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکیہ میں بھی غیر قانونی نقل و حمل میں ملوث 32 افغان مہاجر گرفتار کئے گئے ہیں۔

گرفتار افغان مہاجرین ٹینکر میں چھپ کر یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے، ترک امیگریشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ 2025 میں 42 ہزار غیر قانونی افغان مہاجر گرفتار کئے گئے۔

افغان مہاجرین کی دہشت گرد سرگرمیوں پر امریکا میں امیگریشن پابندیاں برقرار ہیں، دفاعی ماہرین نے افغان طالبان کی انتہا پسندی اور افغان مہاجرین کی سرگرمیوں کو پاکستان اور خطے کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔