حالتِ جنگ میں ثقافتی محاذ کی فتح,وزیر اعلی پنجاب مریم نوازکا جراتمندانہ فیصلہ
تحریر ; زین مدنی حسینی
Stay tuned with 24 News HD Android App
جب ریاستیں مشکل حالات سے گزرتی ہیں تو ان کی اصل طاقت صرف عسکری یا معاشی وسائل میں نہیں بلکہ ان کے ثقافتی اعتماد میں بھی پوشیدہ ہوتی ہے,ایسے ماحول میں پنجاب حکومت کا فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے دو ارب روپے کے فنڈ کا اعلان اور اس پر عملی پیش رفت ایک دور اندیش قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ فیصلہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ ثقافت کو نظر انداز کر کے کوئی بھی قوم دیرپا شناخت قائم نہیں رکھ سکتی۔
ذرائع کے مطابق اس اسکیم کے لیے کئی سو درخواستیں موصول ہوئیں، جو اس شعبے میں موجود توانائی اور امید کی علامت ہیں۔ تاہم حکومت نے باقاعدہ اور شفاف کرائیٹیریا ترتیب دیاجس میں اسکرپٹ کا معیار، پروڈکشن پلان، تجربہ، مالی نظم و ضبط اور تکنیکی صلاحیت جیسے پہلو شامل تھےاور اسی بنیاد پر 30 منصوبوں کو منظور کیا گیا۔ 15 ملین روپے کی پہلی قسط کا اجرا اس امر کا ثبوت ہے کہ اعلان محض الفاظ نہیں بلکہ عملی پالیسی میں ڈھل چکا ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ فلم انڈسٹری ایک مکمل ماحولیاتی نظام (Ecosystem) ہے,ایک فلم کے ساتھ درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں افراد کا روزگار وابستہ ہوتا ہے۔ رائٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، کیمرہ مین، لائٹنگ اسٹاف، ایڈیٹر، ساؤنڈ انجینئر، میوزک کمپوزر، سیٹ ڈیزائنر، میک اپ آرٹسٹ یہ سب اس صنعت کا حصہ ہیں۔ جب سرکاری سرپرستی آتی ہے تو اس کا فائدہ پورے شعبے میں گردش کرتا ہے اور معاشی سرگرمی کو تقویت ملتی ہے،دنیا میں ثقافتی طاقت کو عالمی اثرورسوخ کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
فلم ایک ایسا میڈیم ہے جو زبان، سرحد اور سیاست سے بالاتر ہو کر دلوں تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ اگر پاکستان اپنی ثقافت، اپنے مسائل، اپنی کہانیوں اور اپنی کامیابیوں کو معیاری انداز میں پیش کرے تو عالمی سطح پر ایک مثبت اور مضبوط تشخص ابھر سکتا ہےتاہم اس موقع پر فلم سازوں اور ہدایت کاروں کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے۔
اگر حکومت مالی معاونت فراہم کر رہی ہے تو اس کا جواب بھی اعلیٰ معیار کی صورت میں آنا چاہیے۔ مضبوط کہانی، مربوط اسکرین پلے، جدید اور تخلیقی ہدایت کاری، معیاری سینماٹوگرافی اور یادگار موسیقی یہ سب عناصر ناگزیر ہیں۔ وقتی اور سطحی مواد کے بجائے ایسی فلمیں بننی چاہئیں جو معاشرتی شعور کو بھی اجاگر کریں اور عالمی معیار پر بھی پوری اتریں۔
اس منصوبے کا ایک نہایت اہم پہلو نوجوان نسل، خصوصاً جین زی (Gen Z) کے لیے مواقع کی فراہمی بھی ہو سکتا ہے۔ آج فلم پڑھنے والے اور میڈیا اسٹڈیز کرنے والے نوجوان بڑی تعداد میں موجود ہیں، مگر عملی میدان میں مواقع محدود رہے ہیں.
اگر یہ نوجوان سینئر فلم پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کے ساتھ بطور اسسٹنٹ، رائٹر، یا تکنیکی ٹیم ممبر کام کریں تو انہیں سیکھنے، تجربہ حاصل کرنے اور خود کو منوانے کا موقع ملے گا۔ اس طرح ایک نئی تخلیقی قیادت تیار ہو سکتی ہے جو آنے والے برسوں میں پاکستانی سنیما کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرے گی۔ سرکاری فنڈنگ دراصل ایک پل بن سکتی ہے،تجربہ کار نسل اور نئی سوچ کے درمیان ساتھ ہی سنیما انڈسٹری کی بحالی بھی بے حد ضروری ہے، ملٹی پلیکس سینما اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان کی رسائی محدود طبقے تک ہے۔
ماضی کے سنگل سکرین سینما، جو عوامی تفریح کا مرکز تھے,فلموں کی کمی اور مالی مسائل کے باعث بند ہو چکے ہیں اگر معیاری اور مسلسل فلمیں بنیں گی تو ان سینما گھروں کی بحالی کا جواز بھی مضبوط ہوگا،حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس ریلیف، جدید پروجیکشن سسٹم اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے ذریعے نمائش کے شعبے کو بھی سہارا دے تاکہ فلم سازی اور نمائش کا سلسلہ ایک مضبوط زنجیر کی صورت اختیار کرے،یہ اقدام محض فنڈز کی تقسیم نہیں بلکہ ایک وژن کی ابتدا ہے۔
اگر شفافیت برقرار رہی، معیار کو اولیت دی گئی اور نوجوان نسل کو ساتھ ملا کر چلایا گیا تو یہ منصوبہ عارضی نہیں بلکہ ایک پائیدار ثقافتی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ثقافت زندہ ہو تو قوم زندہ رہتی ہےاور فلم اس ثقافت کی سب سے روشن تصویر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مری:پتریاٹہ چیئرلفٹ 16 رمضان سے عیدالفطر کے پہلے روز تک بند کر دی گئی