بھارت سے دوسرا بڑاریلا چناب میں داخل ،راوی اور ستلج میں بھی اونچے درجے کا سیلاب
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)بھارت سے دوسرا بڑا سیلابی ریلا دریائے چناب میں داخل ہوگیاجبکہ دریائے چناب کے علاوہ راوی اور ستلج میں بھی کئی مقامات پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح میں دوبارہ اضافہ ہونے لگاہے،ہیڈ بلوکی کے مقام پر چناب پل کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے، ہیڈ مرالہ کے مقام پر سیلابی صورتحال کے باعث انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے، پانی کا بہاؤ 6 لاکھ کیوسک سے تجاوز کرنے پر ہیڈ خانکی کے قریب پہلا شگاف ڈالنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں ۔
پنجاب کے مختلف اضلاع میں سیلاب نے ہولناک تباہی مچا دی ہے، دریائے ستلج، راوی اور چناب میں خطرناک حد تک طغیانی، اور گجرات شہر میں اربن فلڈنگ نے شہری و دیہی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔
یہ بھی پٖڑھیں:گردوارہ کرتارپور میں صفائی کا عمل مکمل،سکھ برادری کااظہارتشکر
قصور میں ہیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر دریائے ستلج میں 3 لاکھ 19 ہزار کیوسک کا خطرناک ریلا گزر رہا ہے، جس نے نوری والا، بھیڈیاں، عثمان والا سمیت درجن سے زائد دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،اہل علاقہ کھلے آسمان تلے، مال مویشی اور فصلوں کے نقصان کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ 132 دیہات اور 18,000 ایکڑ اراضی پانی میں ڈوب چکی ہے، فصلوں کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر پولیس اور ضلعی انتظامیہ دن رات امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
لڈن کے نواحی علاقوں میں دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب نے تباہی مچا دی۔،مہر بلوچ کے مقام پر حفاظتی بند ٹوٹنے سے کئی بستیاں زیر آب آ گئیں،کبیروالا کے علاقے کنڈ سرگانہ، قتالپور اور بربیگی میں دریائے راوی کا سیلابی پانی داخل ہو گیا۔