بھارتی مظالم نے کشمیری عوام کی ذہنی صحت کو شدید متاثرکیا ہے;کشمیرانسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز

Mar 04, 2026 | 21:30:PM
بھارتی مظالم نے کشمیری عوام کی ذہنی صحت کو شدید متاثرکیا ہے;کشمیرانسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز(KIIR)ایک آزاد تحقیقی اور وکالتی ادارہ ہے جو جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال اور تنازع سے متعلق پیش رفت کو دستاویزی شکل دیتا ہے کی جانب سےایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی مظالم نے کشمیری عوام کی ذہنی صحت کو شدید متاثر کیا ہے۔
 رپورٹ کے مطابق ذہنی صحت کا تعلق رہائشی حالات اور ضمانت شدہ انسانی حقوق سے ہے،تین دہائیوں کے مسلح تنازع میں ایک لاکھ سے زائد افرادجاں بحق ہوئے،آئی آئی او جے کے میں 8,000 سے زائد جبری گمشدگیوں کو دستاویزی شکل دی گئی۔ 

رپورٹ میں   5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35A منسوخ کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگست 2019 کے بعد کشمیر میں طویل کرفیو اور تاریخ کی طویل ترین انٹرنیٹ بندش رہی،ایک تحقیق کے مطابق 45 فیصد بالغ افراد، یعنی تقریباً 18 لاکھ، ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ 
 ڈپریشن 41 فیصد، بے چینی 26 فیصد اور پی ٹی ایس ڈی 19 فیصد افراد کو متاثر کر رہی ہے،سروے کیے گئے تقریباً 47 فیصد بالغ افراد شدید صدمہ خیز واقعات سے گزرے،8 سے 14 سال کی عمر کے 22 سے 27 فیصد بچوں میں نفسیاتی امراض پائے گئے،1994 سے 2012 کے درمیان خودکشی کی کوششوں میں 250 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔  
  ذہنی صحت کے صرف تقریباً 10 فیصد مریضوں کو علاج میسر ہے،2011 کی مردم شماری کے مطابق جموں و کشمیر کی آبادی 1 کروڑ 25 لاکھ تھی، پورے خطے میں صرف 41 ماہرِ نفسیات موجود ہیں جو زیادہ تر جموں اور سری نگر میں ہیں۔ 
 ذہنی صحت کی خدمات زیادہ تر جی ایم سی سری نگر اور سکمز ہسپتال تک محدود ہیں،10 اضلاع میں مجموعی طور پر 140 نفسیاتی بستروں کی سہولت موجود ہے، پورے صوبے میں ضلعی کنسلٹنٹس کی تعداد صرف پانچ سے چھ ہے ،آئی ایم ایچ اے این ایس نے 2020 کے دوران 77,000 سے زائد ذہنی صحت کے مریض رپورٹ کیے۔ 
 ڈاکٹر ارشد حسین نے کووڈ 19 کے دوران بے چینی اور ڈپریشن میں اضافے کی نشاندہی کی، نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق 61 فیصد خواتین تولیدی مسائل کی شکایت کرتی ہیں،قومی اوسط تولیدی مسائل کے لیے 39 فیصد ہے۔ 
 سکمز کی ایک تحقیق کے مطابق 65 سے 70 فیصد پی سی او ایس مریضوں میں نفسیاتی امراض پائے گئے،ایس ایم ایچ ایس اور گورنمنٹ سائیکاٹرک ہسپتال میں روزانہ آنے والے 75 فیصد مریض خواتین ہیں۔
 وادی میں سروے کی گئی 91 فیصد بیواؤں نے دوبارہ شادی پر غور نہیں کیا،15 سالہ اشتیاق احمد کھنڈے کو 29 جون 2010 کو قتل کیا گیا،ان کی والدہ جمیلہ بانو میں ڈپریشن اور پی ٹی ایس ڈی کی تشخیص ہوئی، آئی آئی او جے کے کو محاصرے میں ایک “کھلی فضائی جیل” قرار دیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھیں :  مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کو آپس میں لڑوادیا گیا!سعودیہ کا بڑا اعلان