اے موت ! تجھے موت کیوں نہ آ گئی ؟ 

تحریر: محمد شجاع الدین

Sep 03, 2026 | 12:32:PM
اے موت ! تجھے موت کیوں نہ آ گئی ؟ 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پمز کے سبق آموز واقعے نے دہائیوں پہلے کی ایک رات یاد دلا دی ۔ آج سوچتا ہوں مجھ جیسا ناہنجار اور ناشکرا کوئی نہیں ، وہ تو مشیت ایزدی نے بچا لیا ورنہ میں نے تو بھری جوانی میں چھوت کی بیماری مول لینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی ۔ اس وقت ایک پھول کچلا بھی جاتا تو کیا تھا میرے صحن چمن میں کئی پھول کھلے بیٹھے تھے ۔ خوامخواہ بیمار بیٹے کی تیمار داری میں گریہ کیا ۔ ٹھیک ہے ، کل کا بچہ آج ماشااللہ سے گبھرو جوان ہے ، 7 سمندر پار بیٹھا دنیا بھر کے نظارے کر رہا ہے لیکن شفقت پدری کے چکر میں مجھے کچھ ہو جاتا تو ، ؟ زندگی کے سب مزے کرکرے نہ ہو جاتے ؟ دیوانی ، جوانی کی جولانی کیونکر دیکھ پاتا ؟ ننھے فرشتے کو مرنا تھا تو مر جاتا نا ؟ کیا پمز کے قید خانے میں بند 14 بچے بے موت نہیں مارے گئے ؟ اس قید خانے کے رکھوالے تو سبھی بچ گئے نا ؟ 
لگ بھگ تین دہائیاں بیت گئیں ۔ منجھلا بیٹا ابھی کم سنی کے نچلے درجے کی عمر میں تھا ، گول مٹول ، تیکھے نین نقش ، دودھ جیسی سفید رنگت ، لال گلابی گال ، روئی کی طرح نرم ملائم ہاتھ ، نیلگوں دلکش آنکھوں میں سرمے کی دھار اور ننھے ننھے گداز پاوں ، بالکل جاپانی گڈا لگتا تھا ۔  ہمارے پنجابیوں کے بچے اتنے گورے چٹے نہیں ہوتے ، نرم و نازک تو بالکل بھی نہیں ہوتے ۔ پنجابی بچوں کی کلائی چوڑی ، پیشانی کشادہ ، جسم بھرا بھرا اور کاٹھی مضبوط ہوتی ہے ۔ یعنی پُوت کے پاؤں پالنے میں دکھتے ہیں ۔ 
اولاد میں کسی قسم کی تفریق تو بہرحال نہیں ہوتی ، بچے دو چار ہوں یا درجن بھر ؟ سبھی پیارے ہوتے ہیں لیکن منجھلی سرکار مجھے کچھ زیادہ ہی پیاری تھی ۔ اس لئے ناز و نعم بھی دوسروں کی نسبت زیادہ ہوتا ۔ خیرقصہ مختصر میرے نونہال نے ابھی پاوں پاوں چلنا شروع کیا تھا کہ لاکڑا کاکڑا نے آن لیا ۔ ان دنوں مجھ پر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ۔ 
چکن پاکس کو ہمارے ہاں عام زبان میں لاکڑا کاکڑا ہی کہا جاتا ہے ، یہی لفظ زیادہ تر مستعمل بھی ہے ۔ یہ بیماری ایک وائرس کی وجہ سے انسانی جسم میں در آتی ہے ۔ اس میں جسم، چہرے، سینے اور کمر پر پہلے پہل سرخ دانے نکل آتے ہیں جو بعد میں پانی والے ، کھجلی زدہ چھالوں میں بدل جاتے ہیں ۔ بسا اوقات ہلکا بخار، تھکاوٹ اور سر درد بھی ہو جاتا ہے اور اسے چھوت کی بیماری گردانا جاتا ہے ۔ 
نومولود ہی سہی ، پمز کی کال کوٹھڑی میں بند 14 بچوں کی فغاں بلند تو ضرور ہوئی ہو گی ؟ بچے بول نہیں سکتے ، روتے تو ہیں ؟ چیختے ، چلاتے تو ہیں ؟ دم گھٹنے سے پہلے ننھے ہاتھ ہوا میں بلند تو ضرور ہوئے ہوں گے ؟ کھلونا لینے کی ضد میں بچے کا پاوں پٹخنا تو سب نے دیکھ رکھا ہے ، نرسری کی چھوٹی چھوٹی پھلواریوں میں لیٹے ، شدید درد ، تکلیف اور پھر جانکنی کی حالت میں ان معصوموں نے بھی بہت ہاتھ پاوں مارے ہوں گے ؟ افسوس صد افسوس جنت مکین بچے اپنے روئی کے گالوں جیسے ننھے منے پاوں پٹختے رہے لیکن کوئی مسیحا ان کی مدد کو نہ پہنچا ۔ اسپتال کا تمام عملہ تو اپنی مسیحائی میں مصروف تھا ۔ من کے سچے بچے ، تمام رات میرے اور آپ کے مہذب معاشرے کی بے حسی کا ماتم کرتے شفق کی لالی میں دور بہت دور گم ہو گئے ۔
چکن پاکس یا لاکڑا کاکڑا کی بیماری ایک مریض سے دوسرے شخص میں کھانسنے، چھینکنے یا چھالوں کے پانی کے ذریعے تیزی سے پھیلتی ہے ۔ بیماری تو خیر بیماری ہوئی ، لاکڑا کاکڑا یا چکن پاکس میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ بیمار سے تندرست شخص میں منتقل ہونے کیلئے اسے کسی خاص تردد کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ، یہ تو ہوا کے دوش پر پھیلتی چلی جاتی ہے ۔ ایسی صورت میں گھر کے دوسرے افراد خصوصا بچوں کو اور سب سے بڑھ کر خود کو بھی اس سے بچا کر رکھنا کافی کٹھن ہوتا ہے ۔ اسی لئے اس کے برتن، بستر، کپڑے سب کچھ الگ کر دیا ۔  
بڑی مشکل یہ آن پڑی کہ بچے بول نہیں سکتے ۔ ان کی آنکھوں سے چھلکتے آنسو ہی ان کے دل کی بات ، منشا، مطلب یا مقصد سمجھنے کا ذریعہ بنتے ہیں اور صاحبزادے نکلے بچوں کے بھی بچے ۔ توتلی زبان بھی نہ کھولتے ، اشارے کنائے میں بھی کچھ سمجھانے سے قاصر ، بس اپنی بے خودی کا سودا کئے مست لیٹے رہتے ۔ میرے معصوم بچے نے مسالے دار ، چٹ پٹے یا تیل میں تلے کھانے کیا کھانے تھے کہ ایسی خوراک سے خارش اور جلد کی جلن کو بڑھاوا ملتا ہے ۔
موت بھول سکتی ہے ، قتل نہیں بھولتا ۔ بچے تھے تو سنا کرتے تھے کہ جب کبھی لال آندھی چلے تو سمجھ لینا کسی ناحق کو قتل کر دیا گیا ہے ۔ آسمان کی لالی دیکھ کر ہم بچے سہم جایا کرتے تھے ۔ زمانے کا چال چلن بدل گیا تو قدرت نے بھی اپنے مزاج بدل لئے ۔ اب آسمان سرخ ہوتا ہے ، لال آندھیاں چلتی ہیں نہ ہی آج کے بچے ڈرتے ہیں ۔ پمز کی نرسری میں جان ہارنے سے پہلے ، آکسیجن کے سلنڈروں کی مدد سے سانسوں کی ڈوری بحال رکھنے کی تگ و دو میں مصروف بچے روئے تو بہت ہوں گے ؟ ان کی نیم مردہ اورادھ کھلی آنکھوں سے بہتے آنسو سرخ رخساروں پر پھیلتے چلے گئے ہوں گے ؟ موت کے اس غار میں کوئی پوچھنے والا تھا نہ آنسو پونچھنے والا ۔ وہ موت نہیں تھی ، قتل تھا ۔ جیتے جاگتے 14 بچوں کا قتل ۔
چکن پاکس یا لاکڑا کاکڑا میں تکلیف دہ معاملہ یہ ہوا کہ جسم، چہرے، سینے اور کمر پر ابھر آنے والے دانے یا چھالوں کو ہر گز ہر گز کھجانا نہیں ، نہ ہی کھرچنا تھا ۔ اب حالت یہ ہوئی کہ میرے نونہال کا ننھا جسم دانوں سے بھرا پڑا تھا اور میں کچھ بھی نہیں کر پا رہا تھا ۔ ایک رات ہلکے ہاتھوں سے مخمل کی طرح نرم ، ملائم اور گداز کمر پر پاوڈر لگا رہا تھا کہ اچانک نظر آنسو بہاتی آنکھوں پر جا ٹھہری ۔ کلیجہ منہ کو آ گیا ، دل کٹ کر رہ گیا ۔ تکلیف میں مبتلا ننھا فرشتہ کچھ بول نہیں پا رہا تھا ، بس اس کی رگیں تنی ہوئی تھیں ، گلابی چہرے کا رنگ لال سرخ ہو گیا تھا لیکن آس کی آنکھوں سے بہتے نمکین آنسو اس کے کرب کا احوال بتانے کیلئے کافی تھے ۔ 
میرا خود کا دل تڑپ اٹھا اور آنسو میری آنکھوں سے بھی ٹپ ٹپ گرنے لگے ۔ میرے بس میں کچھ بھی تو نہیں تھا ۔ بیچارگی میں اپنے لخت جگر کو اپنی بانہوں کے حصار میں جکڑ لیا ، اپنی گود میں بھر لیا ۔ یہی سوچا کہ بھاڑ میں جائے چھوت کی بیماری ، میرا بچہ بری طرح سے بے حال ہے اور میں پرہیز کرتا رہوں ؟ تف ہو میری زندگی پر ۔ جو اپنی آل کا دکھ بھی محسوس نہ کر سکے ، وہ باپ تو کیا ، انسان کہلانے کا بھی حقدار نہیں رہتا ۔ بس باپ بیٹے نے ایک دوسرے کو سینے سے لگائے رات کاٹ لی تھی ۔ میرے پیار بھرے لمس نے اسے تسکین پہنچائی تھی کیونکہ اس کی آنکھوں کے بہتے آنسو خشک ہو گئے تھے ۔
پمز کے سبق آموز واقعے سے مجھ جیسے دنیا دار کو سبق یہ ملا کہ سب سے پہلے اپنی جان کا اصول ہی دنیاوی لوح محفوظ کا حاصل ہے ، کائنات کے رائج الوقت اصولوں میں اول و آخر اصول بھی یہی ٹھہرا ۔ اسی سنہری قائدے کی پابندی کرتے ہوئے پمز کی بچہ جیل کو تالے لگائے گئے ، اسی حیوانی طریقہ واردات کے تحت بچہ جیل کے سلاخوں والے قینچی دروازے کو زنجیریں ڈال کر بند کر دیا گیا ۔ ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹروں ، نرسوں ، آیا باجیوں اور چوکیداروں نے سب سے پہلے اپنی جان کے اصول کی بجا آوری میں ہی زندہ بچوں کو جلنے ، مرنے دیا اور کس کمال ہوشیاری سے اپنی خود کی جانیں بچا لیں ۔ 
ہائے موت ! ظالم موت ! پمز کی موت ایک نہیں ، دو نہیں ، پورے 14 گھروں کی خوشیاں کھا گئی ۔ آنگن سونے ہو گئے ، صحن چمن ویران ہو گئے ، ایک دن  پہلے جو گلستان پھل پھول لانے کی خبر دے رہے تھے ، رات ہی رات میں وہاں زرد زرد پھولوں اور لمبے لمبے سخت کانٹوں کے شاخ دار پودے اگ آئے ۔
14 ماوں کی کوکھ اجڑ گئی ۔ وہ معصوم جنہیں رحم مادر کا محفوظ ٹھکانہ ملا تھا آج ریاستی ذمہ داروں کی غفلت ، نااہلی اور بے حسی کی نذر ہو گئے تھے ۔ ان ناعاقبت اندیشوں سے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ۔ سب کارپردازوں نے اپنے ہاتھوں پر دستانے چڑھا رکھے ہیں ، ایسا اندھیر ہے کہ کچھ دکھائی نہیں پڑتا ؟ کون جانے کس کے ہاتھ پر کس بچے کا لہو ہے ؟ کون جانے کس دستانے کے پیچھے کس ماں باپ کے ارمانوں کا خون ہے ؟  
پمز کے آہنی پنجرے میں جل مرنے والے بیٹوں ، بیٹیوں کے ماں باپ کا احوال کوئی جان سکتا ہے کیا ؟ باپ بیچارے کی تو بیساکھی ٹوٹ گئی ، کمر خمیدہ ہو گئی ۔ دکھی ماں کی سہیلی بچھڑ گئی ، وہ ایک بار پھر سے اکیلی رہ گئی ۔ بیٹا ماں ، باپ کی آن ، بان اور شان ہوتا ہے تو بیٹی سر کا تاج ۔ بیٹے اور بیٹی کی موجودگی ، ماں باپ کی کمزوراور شکستہ ہڈیوں کو نئی توانائی بخشتی ہے ۔ بیٹے ، بیٹی کو پروان چڑھتا دیکھ کر ماں باپ کی عمر اگرچہ کم ہوتی جاتی ہے مگر زندہ رہنے کا جذبہ جوان ہوتا چلا جاتا ہے ۔
افسوس ! پمز کے غیر انسانی اور ہولناک واقعے میں جل مرنے والے بچوں کے ماں باپ بھی جیتے جی مر گئے ۔ دونوں کو ناکردہ گناہوں کی سزا ملی ۔ المیہ یہ ہے کہ قاتل ڈھونڈے سے بھی نہیں مل رہے ۔ مجبور ماں باپ ان پرنفرین بھیجیں ؟ بد دعا یا کوسنے دیں ؟ لعنت ، ملامت کریں یا پھٹکار َ؟ لعین کہیں یا مردود ؟ کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔  یہاں ان ظالموں سے کوئی پوچھنے والا ہے نہ سرزنش کرنے والا ۔  ’’رہے نام اللہ کا‘‘ 

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر