بھارتی پراپیگنڈے پر سابق پاکستانی کرکٹر ثنا میر کا سخت ردعمل
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان اور کمنٹیٹر ثنا میر نے بھارتی میڈیا کی جانب سے کی جانے والی تنقید کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کے بیان کو غلط رنگ دیا گیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وضاحت دیتے ہوئے ثنا میر نے کہا کہ ان کا مقصد صرف ایک کھلاڑی کے سفر اور مشکلات کو اجاگر کرنا تھا، اس میں کسی قسم کا سیاسی ایجنڈا شامل نہیں۔ انہوں نے درخواست کی کہ اس معاملے کو بلاوجہ سیاست سے نہ جوڑا جائے۔
ثنا میر نے مزید کہا کہ کمنٹیٹرز کا اصل کام کھلاڑیوں کی جدوجہد اور کہانیوں کو نمایاں کرنا ہوتا ہے، اور ان کے الفاظ کا مقصد کبھی بھی کسی کو تکلیف پہنچانا نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے انہوں نے کرک انفو کی اصل لسٹنگ کا سکرین شاٹ بھی شیئر کیا، جس کا حوالہ انہوں نے دوران کمنٹری دیا تھا۔
It's unfortunate how things are being blown out of proportion and people in sports are being subjected to unnecessary pressure. It is sad that this requires an explanation at public level.
— Sana Mir ثناء میر (@mir_sana05) October 2, 2025
My comment about a Pakistan player's hometown was only meant to highlight the challenges… pic.twitter.com/G722fLj17C
انہوں نے بتایا کہ میں زیادہ تر کھلاڑیوں پر تحقیق کے لیے انہی ڈیٹا بیس کا سہارا لیتی ہوں، چاہے وہ پاکستان سے تعلق رکھتے ہوں یا کسی اور ملک سے۔ مجھے علم ہے کہ بعد میں وہاں تبدیلی کر دی گئی ہے، لیکن میں نے اسی کا حوالہ دیا تھا۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ویمنز ورلڈ کپ 2025 کے دوران کمنٹری میں ثنا میر نے کھلاڑی نتالیہ پرویز کے آبائی علاقے کو ’آزاد کشمیر‘ کہا۔ بھارتی میڈیا نے فوری طور پر اس پر شور مچاتے ہوئے اسے سیاسی رنگ دے دیا اور آئی سی سی سے کارروائی کا مطالبہ کر ڈالا۔
بھارتی صحافیوں میں انڈیا ٹوڈے اور آج تک کے رپورٹر راہول راوت کے ساتھ ساتھ سینئر صحافی وکرانت گپتا نے بھی سخت ردعمل دیا۔
بعدازاں کرک انفو نے اپنی ویب سائٹ پر نتالیہ پرویز کے پروفائل میں ان کی جائے پیدائش کو ’پاکستان ایڈمنسٹرڈ کشمیر‘ درج کر دیا، حالانکہ ابتدائی طور پر وہاں ’بندالہ، آزاد جموں و کشمیر‘ تحریر تھا۔
ثنا میر نے اپنے بیان میں زور دیا کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے اور کھلاڑیوں کی محنت اور کہانیوں پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ انہیں غیر ضروری تنازعات میں گھسیٹا جائے۔