پابندی حل نہیں، بسنت تہوار کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے:سلیم بخاری

Dec 03, 2025 | 23:47:PM
پابندی حل نہیں، بسنت تہوار کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے:سلیم بخاری
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(فرخ احمد)معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت تہوار منانے کی اجازت دیئے جانے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاہوریوں کو اس تفریح سے محروم کرنا مجرمانہ غفلت تھی، جس کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

24 نیوز کے مقبول پروگرام دی سلیم بخاری شو میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بسنت ایک بہت بڑا ثقافتی ، سماجی اور اقتصادی میلہ ہوتا تھا جن لوگوں نے اس میلے کو دیکھا نہیں انہیں نہیں معلوم کے اس ایونٹ کے جو رنگ تھے کتنی تفریح کا ذریعہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس رنگ برنگے میلے سے محروم کیا جانا عوام کے ساتھ اچھا نہیں تھا، مثال دیتے ہوئے کہا کیا سڑکوں پر حادثات ہوتے ہیں تو کیا ٹریفک کو بند کر دینا چاہئے، بلکل اسی طرح جیسے ٹریفک کو ریگولیٹ کیا گیا ہے، اس فیسٹیول کو بھی منانے کے لیے اس کو ریگولیٹ کیا جانا چاہئے، نہ کہ عوام کو اس تفریح سے ہی محروم کر دیا جائے، اس فیسٹیول کو کیوں ریگولیٹ نہیں کیا گیا، اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما تھے؟

انہوں نے اس میلے کے متعلق یہ نظریہ کی نفی کی کہ یہ تو برہمنوں کا ایونٹ تھا۔ہم نے اس کو اپنا لیا جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ چین اور جاپان میں تو یہ ایونٹ تو صدیوں سے جاری ہے اور آج بھی اس کو مناتے ہیں۔ پتنگ بازی کے اقتصادی حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صرف لاہور میں پانچ لاکھ خاندان اس کاروبار سے منسلک تھے جو اس وقت دو سو بیس بلین کا کاروبار کرتے تھے، اس فیسٹول پر پابندی لگا کر بے روزگاری میں بھی اضافہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں اہم قرارداد کی منظوری پر رائے دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے جنگ کے دوران پانچ دفع  فلسطین کے حق میں قرارداد منظور ہو چکی ہے لیکن اس وقت یہ ثابت ہوا تھا کہ اکثریت بااثر ممالک اسرائیل کے ساتھ جُڑے ہوئے تھے جس کی وجہ اسے اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا لیکن اس کی جو قرارداد اب پاس ہوئی ہے وہ یہ بتا رہی کہ جنگ بندی تو ہو چکی ہے، اب اس کے بعد جو امن اور ڈیولپمنٹ کی صورتحال ہے اس پر کیا کرنا چاہئے، یہ قرار داد کیا کہہ رہی ہے اس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس قرار داد میں جو مطالبات رکھے ان کو دُہرایا۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے غیر قانونی قبضہ ختم کرے، اسرائیل نئی آبادیاں بنانا بند کرے، موجودہ آبادکاروں کو نکالے، اسرائیل 1967 سے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں سے مکمل انخلا کرے۔ چینی مندوب نے مسئلہ فلسطین کے سیاسی حل کیلئے کوششوں میں تیزی لانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی بحران میں کمی ضروری ہے، فلسطین کے دو ریاستی حل کی بنیاد پر سیاسی پیشرفت ضروری ہے۔

سلیم بخاری نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ لوگوں کا کام سیاست میں نہیں ہے مگر پھر بھی مداخلت کر رہے ہیں جن لوگوں کا کام انصاف دینا ہوتا ہے وہ نہیں دے پاتے جس سے چیزیں خراب ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے عمران خان کے وژن کے مطابق عوام کو ریلیف دینا ہے، عوام کے لیے ہی فیصلہ سازی کرنی ہے، یہ سب وہ رٹے رٹائے بیانات ہیں جو کہ ہم اس وقت سے سن رہے ہیں جب سے وہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں۔ساتھ ہی پولیس کے حوالے سے اور کرپشن کے حوالے سے جو کچھ کہا  ہے اس سے یہ احساس ہوا ہے کہ کے پی کے میں کوئی وزیراعلیٰ بھی ہے۔

انہوں نے سہیل آفریدی سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ بیشک آپ پاکستان کے ساتھ دوستی نہ کریں پاک سرزمین کے ساتھ وفا نہ کریں لیکن خدا کے واسطے ان لوگوں کے ساتھ تو دوستی نہ نبھائیں جو کہ پاکستان کے دشمن ہیں جو اس دھرتی ماں کو خون آلودہ کرتے ہیں، آپ ان سے دوری کر لیں ان سے قربت نہ کریں۔