ٹرمپ ، اسرائیلی وزیراعظم کیساتھ مل کر فلسطینیوں سے زیادتی کر رہے ہیں:سلیم بخاری

Oct 02, 2025 | 00:14:AM
ٹرمپ ، اسرائیلی وزیراعظم کیساتھ مل کر فلسطینیوں سے زیادتی کر رہے ہیں:سلیم بخاری
سورس: 24News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (فرخ احمد)معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا ہے کہ جس فارمولے میں فلسطین کی ریاست  کا زکر نہ ہو اس کو امن منصوبہ کہنا بےجا ہےکیونکہ فلسطینیوں کے ساتھ جو زیادتی صدر ٹرمپ ، نیتن یا ہو کے ساتھ مل کر  رہے ہیں  تو میرا  مجرم نیتن یاہو اکیلے نہیں بلکہ صدر ٹرمپ بھی ہیں۔

سلیم بخاری شو کے دوران اپنی رائے دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انسانیت کے قاتل  کا ٹائٹل تو نیتن یاہو کو دیدیا تھا لیکن انسانیت کے قاتل کو سپانسر کرنے کا  ٹائٹل صدر ٹرمپ کے پاس ہے اور فلسطین میں مسلمانوں کے بےرحمانہ قتل عام کا  مجرم ٹرمپ ہے، ٹرمپ فارمولہ فلسطین کے عوام کا قتل کا منصوبہ ہے۔

 انہوں نے کہا کہ وہ اس لیے یہ کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ نے بہت کمال طریقے سےحماس کی جنگ آزادی کو مسلمان ممالک کے ساتھ ملکر دہشتگردی قرار دیدیا،اس منصوبے کی تائید کر کے مسلم ممالک نے غزہ کے ہر شہید  ہر غازی ، ہر مجاہد کو دہشتگرد ثابت کرنے پر مہر ثبت کر دی۔یہ سب کچھ تو صیہونی  سازش تھی، صیہونی مائنڈ سیٹ تھا جو کہ یہ چاہتے تھے کہ  فلسطینوں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر  غزہ پر قبضہ کر لیا جائے۔اور اسے گریٹر اسرائیل کی بنیاد بنا کر باقی ملکوں پر بھی قبضہ کیا جائے۔

سلیم بخاری نے کہا کہ اس معاہدے کے ہر نکتہ پر غور کریں تو اس میں اسرائیلی پالیسی کی خواہش پوشیدہ ہے، اور عملی طور پر  اس پر قبضے کا منصوبہ پوشیدہ ہے۔اور اسرائیل کو تحفظ پوشیدہ ہے  اور حماس اور فلسطینوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے۔

سلیم بخاری نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیر کو پیش کیے گئے غزہ امن منصوبے پر حماس کو 3 سے 4 دن کے اندر جواب دینے کی مہلت ملنے کے بعد، منصوبے کے مستقبل پر غیر یقینی کے بادل چھا گئے ہیں، اس منصوبے میں ایسی شرائط شامل ہیں جنہیں حماس کے لیے قبول کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ منصوبے میں اسرائیلی انخلا کا کوئی واضح ٹائم فریم شامل نہیں، جب کہ اس میں غزہ کو غیر عسکری علاقہ بنانے کی شرط رکھی گئی ہے، جسے حماس پہلے بھی مسترد کرتی رہی ہے۔

حماس کے لیے اسلحہ چھوڑنے کا فیصلہ آسان نہیں، کیونکہ غزہ میں بھاری اسلحہ نہیں بلکہ مقامی طور پر تیار کردہ ہلکا پھلکا اسلحہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر حماس منصوبہ مسترد کرے تو دنیا اسے امن میں رکاوٹ سمجھے گی اور اگر قبول کرے تو مزاحمت کے خاتمے کو قانونی جواز دے گی۔

دوسری بڑی رکاوٹ نیتن یاہو کا متضاد موقف ہے۔ اگرچہ وہ منصوبے کی حمایت کر چکے ہیں، لیکن انھوں اپنےایک بیان میں  یہ بھی کہ دیا ہے کہ   اسرائیلی فوج غزہ کے بیشتر حصوں میں موجود رہے گی، خواہ یرغمالیوں کو رہا بھی کر دیا جائے۔ یہ بات منصوبے کی اُس شق سے متصادم ہے جس میں اسرائیل کے بتدریج انخلا کا ذکر ہے۔

تیسری بڑی رکاوٹ نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کا موقف ہے جو جنگ کے خاتمے کو حماس کی مکمل شکست سے مشروط کرتی ہے۔ دو وزرا نے منصوبے کو سفارتی ناکامی"قرار دیا۔ اب خطرہ یہ پیدا ہو سکتا ہے کہ  اگر حماس ہاں کہہ دے تو نیتن یاہو کی حکومت گر سکتی ہے۔ دائیں بازو کا خیال ہے کہ یہ منصوبہ دراصل دو ریاستی حل کی طرح ہے، جسے وہ یکسر مسترد کرتے ہیں۔

سلیم بخاری نے مزید کہا  کہ ٹرمپ کے بیس نکاتی منصوبے میں ایک عارضی بین الاقوامی فورس کی تعیناتی،  کا قیام جس کی صدارت ٹرمپ کریں گے اور ٹونی بلیئر اس کے رکن ہوں گےاور بعد کے مراحل میں فلسطینی اتھارٹی کو جزوی کردار دینے کی بات شامل ہے۔ لیکن نیتن یاہو  فلسطینی اتھارٹی کو غزہ میں کردار دینے کے مخالف ہیں۔ ٹرمپ کے بقول  نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کے قیام کی سخت مخالفت کی ہے۔

سلیم بخاری نے کہا کہ بھارتی میڈیا کا امیج  جنگ کے بعد بری طرح متاثر ہو ا ہے اور اب اس کو کو ئی سیریس بھی نہیں لیتا،انہوں نے کہا کہ اندین میڈیا اور عوام مودی  کی رجییم میں اپنے تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں، اب کھیل کے میدان میں  ٹرافی جیتنےکے باوجود  جو درگت بنی ہے اس  سے ان کو سبق سیکھنا چاہیے اور کھیل کو اس  ہندو توا پالیسی سے اجتناب کرنا چاہیے۔

انہوں نے چیئرمین پی سی بی کے اس بیان کی تائید کی کہ بھارتی میڈیا کا کام صرف اپنے لوگوں کو بیوقوف بنانا ہے، بدقسمتی سے بھارت کرکٹ میں سیاست لےکر آیا اور کھیل کی ساکھ کو متاثرکیا۔