جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہیومن ریسورس کی دستیابی بڑا چیلنج بن گئی

Jun 02, 2026 | 17:54:PM
جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہیومن ریسورس کی دستیابی بڑا چیلنج بن گئی
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(زاہد چودھری)جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کیلئے موزوں ہیومن ریسورس کی دستیابی ایک بڑا چیلنج بن گئی, جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مختلف شعبوں کیلئے تجربہ کار طبی عملے اور ماہرین کی بھرتی میں مشکلات سامنے آ گئی ہیں.

 متعدد اہم آسامیوں کیلئے یا تو مطلوبہ تعداد میں امیدوار دستیاب نہیں ہو سکے یا شارٹ لسٹ ہونے والے امیدوار مطلوبہ تجربے سے محروم پائے گئے۔

دستاویزات کے مطابق رجسٹرار کارڈیک سرجری کی 12 اسامیوں کیلئے صرف 12 امیدواروں نے درخواست دی، تاہم کوئی بھی امیدوار کارڈیک سرجری کے مطلوبہ تجربے کا حامل نہیں تھا۔

اسی طرح رجسٹرار انستھیزیا کی 15 نشستوں کیلئے شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں میں سے کسی کے پاس بھی متعلقہ شعبے کا تجربہ موجود نہیں، ہیلتھ فزیسٹ کی 7 آسامیوں پر شارٹ لسٹ ہونے والے امیدوار بھی عملی تجربے سے محروم پائے گئے۔

کنسلٹنٹ نیوکلیئر میڈیسن کی 9 اسامیوں کیلئے شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں میں سے 7 کے پاس کوئی تجربہ نہیں تھا، جبکہ کنسلٹنٹ کارڈیک سرجری کیلئے شارٹ لسٹ 9 امیدواروں میں سے 2 اور کنسلٹنٹ انستھیزیا کیلئے شارٹ لسٹ 5 امیدواروں میں سے 3 امیدوار تجربہ نہ رکھنے کے باوجود فہرست میں شامل ہوئے۔

سینئر کنسلٹنٹ کارڈیالوجی کی آسامی کیلئے شارٹ لسٹ کیے گئے 11 امیدواروں میں سے ایک امیدوار بھی بغیر تجربے کے پایا گیا۔

کارڈیک انستھیزیا ٹیکنالوجسٹ کی 64 نشستوں کیلئے شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں میں سے 52 کے پاس متعلقہ شعبے کا کوئی تجربہ موجود نہیں تھا۔

ذرائع کے مطابق جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی بیشتر آسامیوں پر مطلوبہ تعداد سے زیادہ درخواستیں بھی موصول نہیں ہو سکیں، جس سے ادارے کو درپیش ہیومن ریسورس کے بحران کی شدت واضح ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دستیاب انسانی وسائل کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ادارے کے کئی اہم شعبوں کی ذمہ داریاں نسبتاً ناتجربہ کار افراد کے سپرد ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جو مستقبل میں طبی خدمات کے معیار کیلئے ایک اہم چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :مردان : نامعلوم افراد کی فائرنگ سے خاتون سمیت3افراد جاں بحق