آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین نشستوں کے معاملہ پر لیگل کمیٹی کااجلاس بے نتیجہ 

Jan 02, 2026 | 20:53:PM
 آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین نشستوں کے معاملہ پر لیگل کمیٹی کااجلاس بے نتیجہ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(حاشر احسن)آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین نشستوں کے معاملہ پر بنائی گئی لیگل کمیٹی کا پہلا اجلاس بے نتیجہ ثابت ہوا۔  جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے لیگل کمیٹی اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔

حکومتِ پاکستان کی قائم کردہ 9 رکنی اعلیٰ سطح  کی لیگل  کمیٹی کا پہلا طے شدہ اجلاس بے نتیجہ رہا ۔ 

مہاجرین کی آزاد کشمیر اسمبلی میں نشستوں کے معاملہ پر حتمی رائے دینے کے لئے نو رکنی لیگل  کمیٹی کا پہلا اجلاس آج منعقد ہوا۔ اجلاس میں آزاد کشمیر حکومت  اور  وفاقی بیروکریسی کے  نمائندوں نے تو شرکت کی ۔ پیپلز پارٹی لائرز ونگ کے جنرل سیکرٹری راجہ اعجاز احمد ایڈووکیٹ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔لیکن جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندے کمیٹی کے اجلاس میں نہیں آئے۔

یہ بھی پڑھیئے:  جعلی پولیس مقابلہ کی وائرل ویڈیو پر آئی جی کا ایکشن، پولیس اہلکار حوالات میں بند

مسلم لیگ (ن) سے طاہر انور ایڈووکیٹ پہلے ہی کمیٹی ممبرشپ سے دستبردار ہو چکے ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام نامزد ارکان اجلاس میں غیر حاضر رہے۔

ایکشن کمیٹی اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے نمائندے اجلاس میں شریک نہ ہو سکے۔ آج کے اجلاس مین جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی میں لبریشن فرنٹ کے نمائندوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے مہاجرین کی نشستوں پر قانون سازی یا مذاکرات میں تاخیر کا خدشہ بڑھ گیا۔

آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے وزیر قانون میاں عبدالوحید اجلاس میں شریک تھے۔ کمیٹی میں وفاقی حکومت، آزاد کشمیر حکومت، ایکشن کمیٹی اور قوم پرست تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔

وزارتِ قانون و انصاف کے ایڈیشنل سیکرٹری، قانونی مشیر اور کنسلٹنٹ بھی اجلاس میں موجود تھے۔

اس خصوصی کمیٹی کا مقصد قانونی و آئینی پہلوؤں کا تفصیلی اور باریک بینی سے جائزہ لینا ہے۔

ایکشن کمیٹی کے راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ، سردار ارباب ایڈووکیٹ اور سعد انصاری ایڈووکیٹ اجلاس میں شریک نہ ہوئے

سردار ارباب اور سعد انصاری کا تعلق جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مختلف گروپوں سے ہے۔