پشاور: ٹیکسی سروس کیلئے نیا قانون متعارف
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)پشاورمیں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے شہر کی انتظامیہ نے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
علاقائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے سربراہ ریاض خان محسود کی زیر صدارت شہر کی ٹریفک صورتحال اور پبلک ٹرانسپورٹ آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
نئے اقدامات کے تحت اب پشاور میں چلنے والی تمام نجی ٹیکسیز کو ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹر ہونا لازمی ہوگا۔
رجسٹرڈ ٹیکسیز کو ایک یکساں رنگ سکیم اور QR کوڈ اسٹیکرز دیے جائیں گے، جبکہ غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف قانونی کارروائی، جرمانے اور ضبطی کے اقدامات کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ، انتظامیہ نے 100 سے زائد غیر قانونی ٹرانسپورٹ آپریشنز، جن میں غیر مجاز رکشے اور اسپیڈ اسٹیشنز شامل ہیں۔
فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت کی۔ ان خدمات کے کنٹریکٹرز کے خلاف گرفتاری کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں:حیدر آباد میں پتنگ بازی پر 90 روز کیلئے پابندی
ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے لیے چارساڈہ اور کوہاٹ روڈز پر غیر ضروری یو ٹرن بند کرنے اور تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بی آر ٹی اسٹیشنز جو ٹریفک جام کا سبب بن رہے ہیں، انہیں کھلے مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اسسٹنٹ کمشنرز، ٹریفک پولیس اور ٹرانسپورٹ افسران کی مشترکہ ٹیمیں غیر قانونی رکشوں، قنگیز اور لوڈرز کے خلاف بی آر ٹی کوریڈور پر کارروائی کریں گی۔
مزید برآں، انتظامیہ نے ٹرک، ٹریکٹر ٹرالی اور دیگر مال بردار گاڑیوں پر رات 10 بجے سے پہلے اہم شہر کی سڑکوں میں داخلے پر پابندی عائد کی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اور ریگولیٹری اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سڑک کنارے چیک پوسٹیں کھلے مقامات پر منتقل کی جائیں تاکہ ٹریفک بلا رکاوٹ رواں رہ سکے۔
یہ اقدامات پشاور کے شہریوں کے لیے بہتر اور محفوظ ٹرانسپورٹ نظام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔