قومی اسمبلی میں ٹک ٹاک سمیت سوشل میڈیا پر توہین آمیز و فحش مواد سے متعلق رپورٹ پیش

Apr 02, 2026 | 18:40:PM
قومی اسمبلی میں ٹک ٹاک سمیت سوشل میڈیا پر توہین آمیز و فحش مواد سے متعلق رپورٹ پیش
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(عثمان خان)قومی اسمبلی میں ٹک ٹاک سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر توہین آمیز اور فحش مواد کی روک تھام سے متعلق اہم رپورٹ پیش کر دی گئی۔ رپورٹ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے جمع کرائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق این سی سی آئی اے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر توہین آمیز اور فحش مواد کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ گزشتہ سال سائبر ہراسگی کے 545، نفرت انگیز تقاریر کے 322 مقدمات درج کیے گئے،فیک معلومات کی فراہمی پر 187 جبکہ بچوں سے زیادتی کے 58 مقدمات کا اندراج کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق سائبر ہراسگی کا شکار ہونے والوں میں 360 خواتین اور 110 مرد شامل ہیں، جبکہ نفرت انگیز تقاریر سے 42 خواتین اور 273 مرد متاثر ہوئے۔ غلط معلومات کی فراہمی سے متاثر ہونے والوں میں 21 خواتین اور 180 مرد شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ این سی سی آئی اے نے توہین آمیز مواد پر 600 سے زائد یو آر ایلز بلاک کیے جبکہ اس حوالے سے 435 شکایات درج ہوئیں۔ ان شکایات پر 98 انکوائریاں شروع کی گئیں اور 42 مقدمات درج کیے گئے۔

مزید برآں، توہین آمیز و فحش مواد میں ملوث 73 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 3 افراد کو عدالتوں سے سزائیں بھی سنائی گئیں۔

پی ٹی اے کی جانب سے بھی بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں، جس کے تحت 15 لاکھ غیر قانونی یو آر ایلز کے خلاف ایکشن لیا گیا اور 65 لاکھ فحش مواد پر مبنی ڈومینز کو ویب مانیٹرنگ سسٹم (WMS) کے ذریعے بلاک کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق HTTPS ویب سائٹس کو مکمل طور پر بلاک کرنے کے لیے بھی WMS سسٹم کو فعال کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی اور غیر قانونی مواد کے خاتمے کے لیے اقدامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کو محفوظ آن لائن ماحول فراہم کیا جا سکے۔