فیصل الیاس قتل کیس؛ قاتل ارباب خلیل کو سزائے موت، مرکزی ملزم دبئی میں روپوش
Stay tuned with 24 News HD Android App
(حاشر احسن وڑائچ)اسلام آباد کے غوری ٹاؤن علاقے میں پیش آنے والے اندھے قتل کے دل دہلا دینے والے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے راولاکوٹ آزادکشمیر سے تعلق رکھنے والے مقتول فیصل الیاس کے قتل کے مقدمے میں شریک مرکزی ملزم ارباب خلیل کو سزائے موت سنا دی ہے، جبکہ دوسرا مرکزی ملزم عمران خلیل اب تک دبئی مفرور ہے، جس کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کئے جا چکے ہیں۔
قتل کی اس لرزہ خیز واردات نے نہ صرف وفاقی دارالحکومت بلکہ آزادکشمیر میں بھی سنسنی پھیلا دی تھی، کیونکہ قاتل اور مقتول دونوں کا تعلق ایک ہی شہر راولاکوٹ سے تھا۔ واردات 18 ستمبر 2022ء کو اسلام آباد کے علاقے غوری ٹاؤن میں پیش آئی، جہاں فیصل الیاس کو بے رحمی سے قتل کر کے اس کے جسم کے کئی ٹکڑے کئے گئے اور کورنگ نالہ میں پھینک دیئے گئے۔واقعے کے بعد دونوں مرکزی ملزمان ارباب خلیل اور عمران خلیل خفیہ طریقے سے دبئی فرار ہو گئے تھے۔
ممتاز قانون دان نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے پیشہ ورانہ انداز میں کیس کی مسلسل پیروی کی اور اندھے قتل کے بعد سائنٹیفک بنیادوں پر کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا ہے ، نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے عدالت سے ریڈ وارنٹ جاری کراتے ہوئے وزارت داخلہ اور خارجہ کی مدد سے انٹرپول کے ذریعے دبئی سے ایک ملزم کی گرفتاری یقینی بنوائی اور اس پر ٹرائل کیا، ارباب خلیل کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کر کے 16 اگست 2023ء کو پاکستان واپس لایا گیا۔
سیشن کورٹ اسلام آباد میں مکمل ٹرائل کے بعد جرم ثابت ہونے پر ارباب خلیل کو سزائے موت سنائی گئی، جب کہ کیس میں نامزد دیگر دو ملزمان معظم اختر اور فاروق اعظم کو دو، دو سال قید کی سزا دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:معروف کرکٹر کی رکن پارلیمنٹ سے منگنی ،افواہیں سچ ثابت ہو گئیں
مقدمے کی پیروی کرنے والی وکیل نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ قتل کسی وقتی اشتعال کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ ملزمان نے دبئی سے آ کر خفیہ انداز میں فیصل الیاس کو قتل کیا اور پھر واپس دبئی فرار ہو گئے۔ انہوں نے عدالت کے فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ مفرور ملزم عمران خلیل کو فوری طور پر انٹرپول کے ذریعے وطن واپس لا کر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔پولیس نے مقتول کے موبائل فون کی سی ڈی آر رپورٹ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور گاڑی کی ٹریکنگ کے ذریعے نہ صرف واردات کے وقت کا تعین کیا بلکہ قاتلوں تک پہنچنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ تفتیشی افسر طارق محمود اور ایس ایچ او شفقت فیض نے آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
مقتول کے بھائی بلال الیاس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فیصل کے قتل کے بعد ان کے خاندان پر راولاکوٹ میں جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے تاکہ انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں، مگر عدالت اور اسلام آباد پولیس نے انصاف دے کر ان کا اعتماد بحال کر دیا۔ انہوں نے وزارت داخلہ سے مطالبہ کیا کہ مفرور ملزم عمران خلیل کو وطن واپس لانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔33 سالہ مقتول فیصل الیاس کی ایف آئی آر کورال پولیس سٹیشن میں درج کی گئی تھی۔ کیس کو ابتدا میں اندھا قتل تصور کیا جا رہا تھا تاہم جدید ٹیکنالوجی اور مسلسل تفتیش کے ذریعے پولیس نے تمام ملزمان کا سراغ لگا لیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جرم ثابت ہونے کے بعد ارباب خلیل کو سزائے موت دینا انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سیالکوٹ ضمنی الیکشن؛پہلا غیرحتمی غیر سرکاری نتیجہ سامنے آ گیا