اگر دوسرے ممالک نے ایٹمی تجربات کیے تو امریکہ بھی ایسا ہی کریگا: صدر ٹرمپ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر دیگر ممالک نے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کیے تو امریکہ بھی ایسا ہی کرے گا۔
امریکی صدر نے جمعے کو اپنے سرکاری جہاز ایئرفورس ون میں ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کے حوالے سے اپنے موقف کی وضاحت کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم کچھ ٹیسٹ کرنے جا رہے ہیں، اور اگر دوسرے ممالک یہ کرتے ہیں، اگر وہ ایسا کرنے جا رہے ہیں تو پھر ہم بھی ایسا کرنے جا رہے ہیں۔
اس سے ایک روز قبل امریکی صدر نے محکمۂ جنگ کو ہدایت کی تھی کہ وہ دیگر ایٹمی طاقتوں کے برابر جوہری تجربات دوبارہ شروع کر دے۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب وہ اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کرنے والے تھے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ‘ پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’دیگر ممالک کے تجرباتی پروگراموں کی وجہ سے، میں نے محکمۂ جنگ کو ہدایت کی ہے کہ وہ بھی ان کے مقابلے میں ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کا آغاز کرے۔ یہ کام فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس دوسرے نمبر پر ہے اور چین کافی پیچھے تیسرے نمبر پر ہے مگر وہ پانچ سال میں اس کے برابر آجائے گا۔
یاد رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بدھ کو کہا تھا کہ روس نے کامیابی کےساتھ ’پوسائیڈن‘ نامی ایٹمی توانائی سے چلنے والے سپر ٹارپیڈو کا تجربہ کیا ہے۔
اس کے بارے میں عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ساحلی علاقوں کو تباہ کر سکتا ہے اور وسیع تابکار سمندری لہروں کو جنم دے سکتا ہے۔
جیسے جیسے ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے خلاف اپنا لہجہ اور پالیسی سخت کی ہے، ولادیمیر پوتن نے بھی 21 اکتوبر کو ’بوریوستنک‘ کروز میزائل کے نئے تجربے اور 22 اکتوبر کو ایٹمی لانچ مشقوں کے ذریعے اپنی ایٹمی طاقت کا مظاہرہ کیا۔
امریکہ نے آخری مرتبہ 1992 میں جوہری تجربہ کیا تھا، یہ تجربات اس بات کے شواہد فراہم کرتے ہیں کہ کوئی نیا ایٹمی ہتھیار کس حد تک مؤثر ہے اور پرانے ہتھیار اب بھی قابلِ استعمال ہیں یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں :ڈیجیٹل فراڈ، ریٹائرڈ ملازم51 لاکھ روپے سے محروم